سید
بلال (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کی
تعریف: صبر کا
معنی ہے کہ نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا شریعت اور عقل تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب،حرف الصاد،ص 474)
صبر کا
تعلق خاص طور پر انسان کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ جانوروں سے، قرآن پاک میں بھی بہت سی آیات میں صبر کا تذکرہ
موجود ہے،آئیے ان آیات میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)صبر
سب سے اچھا: وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ
فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ
لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی
کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم
صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14،
النحل:126)
(2)اچھی
طرح صبر کرو: فَاصْبِرْ صَبْرًا
جَمِیْلًا(۵) ترجمہ
کنزالایمان : تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29،
المعارج: 5)
(3)بڑے
نصیب والا: وَ
مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ
حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ
دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔ (پ24، حٰم السجدۃ: 35)
(4)صبر
کا بدلہ: اُولٰٓىٕكَ
یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمہ کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا
دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20،
القصص: 54)
(5)صابر
ہمیشہ جنت میں: اُولٰٓىٕكَ
یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ
سَلٰمًاۙ (۷۵)خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶)
ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے
اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور
سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور
بسنے کی جگہ۔ (پ19،
الفرقان:75، 76)
اللہ
پاک ہمیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami