علی
اکبر مہروی (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔
آیئے اب ہم قرآنی آیات سے صبر کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہے:
(1) مجرم
کو معاف کرنا: وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ:
43)
جس نے
اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی
بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔ (تفسیر صراط الجنان سورت الشوریٰ آیت نمبر 43
جلد نمبر 9)
(2) صبر سے مدد طلب کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
صبر سے
مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو
پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے۔ (تفسیر
صراط الجنان سورت البقرۃ آیت نمبر 153 جلد نمبر 1)
(3) بخشش
اور بڑا ثواب : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں
نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
لوگ
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی
مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے
بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے( تفسیر صراط الجنان سورت ھود آیت نمبر 11 جلد نمبر
4)
(4) ملک کی نگہبانی کرو:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
(5) متقی لوگ
اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
متقی
لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں
، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات کرتے ہیں۔ یاد
رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی
قبولیت کا ہے۔ ( تفسیر صراط الجنان سورت العمران آیت نمبر 17 پارہ نمبر 3جلد نمبر 1)
اللہ
عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami