صبر کرنا ایک بہت ہی اچھا عمل ہے اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ صبر کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تبارک و تعالی صبر کرنے والوں کو دوست اور محبوب رکھتا ہے۔

اب آیئے ہم صبر کے متعلق آیات مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کریں :

(1) مدد حاصل کرنا : وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1، البقرۃ:45)

(2) کفار کی باتوں پر صبر کرنا : وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)

(3) صبر کی تلقین کرنا: ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ(۱۷) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہو ا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ د ہنی طرف والے ہیں ۔ (پ30، البلد:17، 18)

(4) فرشتوں کی مدد کا وعدہ : بَلٰۤىۙ-اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُسَوِّمِیْنَ(۱۲۵) ترجمہ کنزالایمان: ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا ۔ (پ4،آل عمران:125)

(5) نقصان سے محفوظ ہونے والے : وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، ) العصر:1تا3)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی صبر کرنے والا اور دوسروں کو صبر کی تلقین کرنے والا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ