صبر ایک
بہت بڑی نعمت ہے جس کی توفیق رب تعالیٰ کے خاص بندوں کو ہی ملتی ہے، یہ مومنین کی
صفات میں سے ایک اہم صفت ہے اور کی بہت زیادہ فضیلت قرآن و احادیث میں آئی ہے۔ آج
ہم صبر کے متعلق معلومات حاصل کریں گے۔
صبر و
نماز سے مدد چاہو: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیت
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں صبر کی اقسام بیان کی گئی ہیں:
بنیادی
طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور
ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر
کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4 / 82)
خوشخبری
ہے صبر کرنے والوں کے لیے:
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
ہمیں
بھی چاہیے کہ رب العالمین کی جانب سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے کہ ایک روایت میں
ہے کہ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، حضور
اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو
تکلیف ،رنج، ملال اور اَذِیَّت و غم پہنچے، یہاں تک کہ ا س کے پیر میں کوئی کانٹا
ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، 4 / 3، الحدیث: 5641)
اللہ
عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مصیبتوں اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین یارب العالمین
Dawateislami