صبر،
قرآن مجید کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک ہے، جو مومن کی زندگی کا لازمی وصف
قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر صبر کی اہمیت،
اس کے مراتب اور اس پر ملنے والے اجر کا ذکر بڑے بلیغ انداز میں کیا گیا ہے۔
تمہیداً
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صبر صرف دکھ یا تکلیف پر برداشت کا نام نہیں، بلکہ ایک وسیع
تر عملی رویہ ہے، جو انسان کو حق پر قائم رہنے، باطل کے خلاف ڈٹنے، آزمائشوں میں ثابت قدمی دکھانے، اور خواہشاتِ نفس کو قابو میں رکھنے کی طاقت دیتا ہے۔
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ اور اس کے رسول
کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی
ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بےشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10
، الانفال: 46)
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں صبر صرف ایک جذباتی
رویہ نہیں بلکہ ایک مکمل عملی نظام ہے جو مومن کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ صبر انسان کو نہ صرف آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے بلکہ اسے اللہ کی قربت،
مدد اور عظیم اجر کا مستحق بھی بناتا ہے۔
یہی
وجہ ہے کہ قرآن بار بار صابرین کی تعریف کرتا ہے اور انہیں کامیابی، مغفرت اور جنت
کی بشارت دیتا ہے۔ لہٰذا، صبر ایک مؤمن کی کامیاب زندگی کا زینہ
اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہے۔
اللہ پاک ہمیں صبر کا دامن ہمیشہ تھامے رہنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ! صبر انبیاء کرام علیہم
السلام اور صالحین کی صفات میں سے ایک اعلیٰ صفت ہے اور راہِ حق میں تاجدار ِرسالت
ﷺ کو جتنا ستایا گیا اور جتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی
گئیں اور صبر کا جیسا مظاہرہ آپ نے فرمایا ویسا اور کوئی نہ کر سکا، جیسا کہ حضرت
اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جتنا
میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ڈرایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ڈرایا گیا اور جتنا میں
اللہ تعالیٰ کی راہ میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ستایا گیا۔ ( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ الخ،34-باب، 4/ 213، الحدیث: 2480)
اسی
ضمن میں صبر کے متعلق پانچ قرآنی آیات ذکر
کی جاتی ہیں :
(1) صبر
سے مدد چاہو:
وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین
ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
تفسیرِ
صراط الجنان: اس آیت میں ان سے فرمایا جا
رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو۔ (تفسیرِ خازن، سُورۃ البقرہ، جلد 1، آیت 45،
صفحہ 50 )
(2) ایک دوسرے کو صبر کی وصیت:
وَ
الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک
دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر:1تا3)
(3) صبر
پر جنت:
ترجمۂ کنز الایمان:تو انہیں اللہ نے اس دن
کے شر سے بچالیا اور انھیں تازگی اور شادمانی دی ۔ اور
ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ جنت میں
تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹھر۔ اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے
گچھے جھکا کر نیچے کردئیے ہوں گے ۔ ( پ
29، الدھر: 11تا14)
(4) کافروں
کی باتوں پر صبر:
وَ
اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰)
ترجمۂ
کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)
تفسیر
صراط الجنان: وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ: اور
کافروں کی باتوں پر صبر کرو:
یعنی اے حبیب! ﷺ ، کفارِ قریش اللہ تعالیٰ کے بارے میں شریک،بیوی اور اولاد بتا کر
خُرافات بکتے ہیں اور آپ کو جادوگر، شاعر، کاہِن اور مجنون کہہ کر آپ کی شان میں
گستاخیاں کرتے ہیں اور قرآن کو سابقہ لوگوں کی کہانیاں بتا کر اس کے بارے میں نازیْبا
کلمات کہتے ہیں ،آپ کافروں کی ان باتوں پر صبر فرمائیں اورانہیں بدنی ،زبانی ،
قلبی ہر اعتبار سے چھوڑ دیں اور ان کا معاملہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر دیں
۔ (تفسیرِ روح البیان،سورۃ المزمل، تحت الآیۃ:
10، 10 / 213)
(5) اچھی طرح صبر کرو:
فَاصْبِرْ
صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ
بَعِیْدًاۙ(۶)
ترجمہ
کنزالایمان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ وہ
اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔ اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ (پ29،
المعارج: 5تا7 )
تفسیر
صراط الجنان: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا: تو
تم اچھی طرح صبر کرو:
اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ
ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے پیارے حبیب! ﷺ ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں
پر اور مذاق اُڑانے کے طور پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرنے پر صبر ِجمیل فرمائیں
اور کفار کی سختی پر تنگدل نہ ہوں کیونکہ کفارِ مکہ اس عذاب کو اپنے گمان میں
ناممکن سمجھ رہے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ واقع ہونے والا ہی نہیں اور اسی
وجہ سے عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری قدرت سے
کوئی بعید نہیں اور نہ ہی ان پر عذاب نازل کرناہمارے لئے کوئی مشکل ہے ۔ (تفسیرِ روح البیان،سورۃ المعارج، تحت الآیۃ:
5-7، 10 / 159، ابو سعود، المعارج ، تحت الآیۃ: 5-7، 5 / 766، ملتقطاً)
اللہ پاک
ہمیں بھی آزمائشوں کے وقت صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
عزیز عطاری (جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
دینی تعلیمات میں سےایک صبر بھی ہے جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور زندگی میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے قرآن مجید میں صبر کو نہ صرف ایمان
کی علامت قرار دیا گیا ہے بلکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت،
مدد اور جنت کی خوشخبری بھی دی گئی ہے۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)
بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2)طبعی خواہشات
اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔
صبر کے فضائل: قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال میں
صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے 10فضائل کا خلاصہ
درج ذیل ہے:
(1)
اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(2)
صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔
(3) صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا
(4)
صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے
دن لوگ حسرت کریں گے۔
(5)
صبر کرنے والے رب کریم عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔
(6)
صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔
(7)
صبر آدھا ایمان ہے۔
(8)
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
(9)
صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔
(10)
صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1 مکتبۃ المدینہ)
اَمْ
حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللہ الَّذِیْنَ
جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت
میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں
کی آزمائش کی۔ (پ3،
آل عمران :142)
ترجمہ کنز العرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی
پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں
اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ
سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے
ہوئے ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران: 120)
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
نواز (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
جب سلیمان بن
عبدالملک کا بیٹا فوت ہوا تو اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز سے
دریافت کیا :کیا مؤمن اتنا صبر کرے کہ اسے مصیبت محسوس ہی نہ ہو؟ فرمایا:پسند اور
ناپسند آپ کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے مگر
اتنا ضرور ہے کہ صبر مؤمن کا مددگار ہے۔ (حضرت
عمر بن عبدالعزیز کی 425 حکایات صفحہ 350تا 351)
صبر کی
اقسام: صبر کی تین قسمیں ہیں:
(1) مصیبت
میں صبر
(2)
عبادت اور اطاعت کی مشقتوں پر صبر
(3)
نفس کو گناہ کی طرف جانے سے روکنے پر صبر۔(حضرت عمر بن عبدالعزیز کی 425 حکایات
صفحہ 350تا 351)
پیارے
اسلامی بھائیو! قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے کئی مقامات پر صبر کی بارے میں
ارشادات فرمائے ۔
آئیے
چند قرآن پاک سے آیات اور ترجمہ دیکھتے ہیں:
(1) صبر والوں کی آزمائش:
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت
میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں
کی آزمائش کی۔ (پ3،
آل عمران :142)
تفسیر صراط الجنان:اَمْ
حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ : کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں
داخل ہوجاؤ گے؟ :
یہاں
مسلمان پر آنے والی آزمائشوں کی حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر
تمہیں آزمائشیں آتی ہیں تو اس پر بے قرار اور حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم
تو مسلمان ہیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ کیوں تکلیفوں میں مبتلا فرما رہا ہے؟یاد رکھو کہ
تمہارا امتحان کیا جائے گا، تمہیں ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف اُٹھاتے ہو اور کتنا ثابت
قدم رہتے ہو۔ تھوڑی سی تکلیف پر چِلّا اٹھنا اور دہائی دینا
شروع کردینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ جنت میں داخلہ مطلوب ہے تو ان آزمائشوں پر پورا اترنا پڑے گا، اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں قربانی دینا پڑے گی اور ہر حال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ
کرنا پڑے گا۔
زباں
پہ شکوہِ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے
نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
اِس میں اُن لوگوں کو سرزنش (تنبیہ) ہے جو
اُحد کے دن کفار کے مقابلہ سے بھی آگے تھے۔ نیز اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے
اعمال اور اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمیں راہِ خدا میں اپنا مال یا
وقت دینا پڑے تو ہم اس میں کتنا پورا اترتے ہیں ؟ افسوس کہ ہماری حالت کچھ اچھی نہیں۔ فضولیات میں خرچ کرنے کیلئے پیسہ بھی ہے اور وقت بھی لیکن اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرتے وقت نہ پیسہ باقی رہتا ہے اور نہ وقت۔
آیت میں
علم کا لفظ ہے ، یہاں اس سے مراد آزمائش کرنا ہے۔
(2) اپنے
اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا:
الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲)
ترجمہ
کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا:جنہوں
نے صبر کیا :
یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے
اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے
اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی
کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا اور وہ
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے
اس پر راضی ہیں اور مخلوق سے رشتہ منقطع کرکے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک
کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے۔
(3) رسول الله کو صبر کی تلقین :
ترجمۂ کنز الایمان: تو اے محبوب تم صبر کرو
بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف
کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو ۔ (پ 24المؤمن: 55)
تفسیر صراط الجنان: فَاصْبِرْ: توتم صبر کرو:
اس سے
پہلی آیات میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں
کی مدد فرمائے گا اور اب یہاں سے نبی کریم ﷺ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں
پر صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! ﷺ ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی ایذا
پر صبر کرتے رہیں ،بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس نے جس طرح پہلے رسولوں
کی مدد فرمائی اسی طرح وہ آپ کی مدد بھی فرمائے گا، آپ کے دین کو غالب کرے گا اور
آپ کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا نیز آپ اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گناہوں کی معافی
طلب کریں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر ہمیشہ قائم رہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی
پاکی بولنے سے پانچوں نمازیں مراد ہیں ۔
(4) صبر کا
اجر:
اُولٰٓىٕكَ
یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ
سَلٰمًاۙ (۷۵)خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶)
ترجمہ
کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا
اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ
اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ۔ (پ19، الفرقان:75، 76)
تفسیر
صراط الجنان: اُولٰٓىٕكَ: انہیں
:
اس سے
پہلی آیات میں اللہ تعالٰی نے اپنے صالحین بندوں کے اوصاف ذکر فرمائے، اس کے بعد یہاں
اُن کی جزا ذکر فرمائی جارہی ہے۔ چنانچہ ا س آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اللہ
تعالٰی کی اطاعت پر ڈٹے رہنے،گناہوں سے بچنے، کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں
پر صبر کرنے، اِستقامت کے ساتھ عبادت کرنے اور فقر و فاقہ پر صبر کرتے رہنے کے سبب
جنت کا سب سے اونچا درجہ انعام میں دیا جائے گا اور اس بلند درجے میں دعائے خیر
اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔ یہ استقبال یوں ہوگا کہ فرشتے دعائے خیر
اورسلام کے ساتھ ان کی تعظیم و تکریم کریں گے یا یوں ہو گا کہ اللہ تعالٰی ان کی
طرف سلام بھیجے گا۔ مزید
ارشاد فرمایاکہ وہ ا س بلند درجے میں ہمیشہ رہیں گے، وہ کیا ہی اچھی ٹھہرنے اورقیام
کرنے کی جگہ ہے۔
(5) صبر کی وصیت :
ثُمَّ
كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا
بِالْمَرْحَمَةِؕ(۱۷) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸)
ترجمۂ
کنز الایمان:پھر ہو ا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں
اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ
د ہنی طرف والے ہیں ۔ (پ30،
البلد:17، 18)
تفسیر
صراط الجنان: ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:
پھران میں سے ہوجو ایمان لائے:
یعنی یہ
تمام عمل اُس وقت مقبول ہیں اور اُسی صورت یہ اعمال کرنے والے کے بارے کہا جائے
گاکہ وہ گھاٹی میں کودا کہ جب یہ اعمال کرنے والا ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان
لائے اور انہوں نے آپس میں گناہوں سے باز رہنے اور عبادات بجالانے اور ان مشقتوں
کو برداشت کرنے پر صبر کی نصیحتیں کیں جن میں مومن مبتلا ہوں اور انہوں نے آپس میں
مہربانی کی تاکیدیں کیں کہ مومنین ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کریں
اور اگر وہ ایمان دار نہیں تو اس کے لئے کچھ نہیں بلکہ اس کے سب عمل بیکار ہیں۔
اللہ
پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اللہ
رب العزت نے قرآن پاک میں بہت سے احکام بیان فرمائے ہیں جیسے : نماز ، روزہ، حج
،زکوۃ وغیرہ کے احکام،قربانی کے احکام اور
وراثت کے احکام اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں عقائد کا بیان ، اخلاقی و معاشرتی
مسائل ،معاشی مسائل ،قانونی مسائل ،روحانی مسائل ،طلاق کے مسائل ، اور اللہ پاک نے
قرآن پاک میں علم کے بارے میں بھی فرمایا ہے، اسی طرح قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے
ان لوگوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ آیئے ہم صبر کے حوالے سے چند قرآنی آیات ذکر کرتے ہیں :
( 1)
صبر کرنے والوں کے لیے خوش خبری :
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ
وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
(2)
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(3) ہر
مصیبت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے :
الَّذِیْنَ
اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت
آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
(4 )صبر
اور نماز سے مدد چاہو :
وَ اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین
ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسروں کو نیکیاں کرنے کی اور گناہوں سے
منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
فیضان
علی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! جس طرح قرآن پاک میں ناشکری
کی مذمت بیان کی گئی ہے اسی کے ساتھ ساتھ صبر کے فضائل بیان کیے گئے ہیں آپ کے
سامنے چند آیات مبارکہ پیش کرتا ہوں:
(1)
خوشخبری سنادو صبر والوں کو :
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
(2) صبر
و پرہیزگاری :
اِنْ
تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا
بِهَاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠(۱۲۰)
ترجمہ
کنز العرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی
برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان
کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک
اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران: 120)
(3)
اللہ کے محبوب :
وَ
كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا
لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد
کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی
تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے
اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
(4) بڑی
ہمت کا کام :
لَتُبْلَوُنَّ
فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا
الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ
اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ضرور تمہاری
آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں
سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل
عمران: 186)
(5)
اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے :
وَ
اَطِیْعُوا اللہ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ
رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)
ترجمہ
کنز الایمان: اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر
بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بےشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10 ، الانفال: 46)
اللہ تعالی ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
عدنان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
ہمارا
پیارا دین اسلام ہماری ہر شعبہ زندگی میں
ہماری راہنمائی کرتا ہے جس طرح ہمیں شکر و اخلاص اپنانے کا حکم دیتا ہے اسی طرح
مصائب و تکالیف پر صبر اختیار کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔
آئیے ہم بھی صبر کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت
حاصل کرتے ہیں :
وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ
اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ دولت صبرکرنے
والوں کو ہی ملتی ہے اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔ (پ24، حٰم السجدۃ:
35)
اور یہ
دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے یعنی برائیوں کو بھلائیوں سے ٹال دینے جیسی عظیم
خصلت کی دولت ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو تکلیفوں اور مصیبتوں وغیرہ پر صبر کرتے ہیں
اور یہ دولت اسے ہی ملتی ہے جو بڑے نصیب والا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان ج/8 ص/642)
2)صبر کی
وصیت: اِلَّا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ
تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂ کنز الایمان: مگر جو ایمان لائے اور اچھے
کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر: 3)
مگر جو
ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید
کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ
میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے
والے ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان ج/10 ص/817)
(3) صبر
کا انعام: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ
کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
اس آیت
اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو
گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں
داخل کرے گا ۔ (تفسیر صراط الجنان
ج/10ص/478)
(4)مصیبت
پر صبر:
ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا
رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر
پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔ (پ21،لقمان : 17 )
اس سے
پہلی آیت میں ذکر ہوا کہ حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو
عقائد کے حوالے سے نصیحت کی اور یہاں سے ان کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں
نے اپنے بیٹے کو ظاہری اعمال کے حوالے سے کی ۔ (تفسیر صراط الجنان ج/7ص/495)
(5) صبر
کا انجام:
سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)
ترجمہ
کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم
نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)
فرشتے
روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر
جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی
ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر
صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (
تفسیر صراط الجنان ج/5 ص/113)
اللہ
تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قرآن وسنت پر عمل کرنے اور ہمیشہ ہر حال
میں صبر و تحمل اور بردباری سے کا لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد
تیمور عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
پیا رے
اسلامی بھائیو! اللہ پاک کی طرف سے ہم پر
کوئی آزمائش آئے کوئی تکلیف آئے یا کوئی ہم پر ظلم کرے تو ہمیں
چاہیے کہ ہم ہر حالت میں صبر کرتے رہیں اور صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑیں۔
صبر
کرنے والوں کے لیے اللہ پاک نے بہت سے انعام رکھے ہیں۔
آئیے قرآن پاک سے صبر کے متعلق چند آیات پڑھیے:
( 1 ) ظلم پر صبر کرنے کے فضائل :
وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
تفسیر
صراط الجنان: وَ لَمَنْ صَبَرَ: اور
بیشک جس نے صبر کیا:
یعنی
جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے
کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے
مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب
کرنا بہادری ہے۔
( 2 ) صبر کو بہترین کہا گیا : وَ
اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ
صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی
کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم
صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)
تفسیر
صراط الجنان:وَ
اِنْ عَاقَبْتُمْ:اور اگر تم سزا دینے لگو:
یعنی اگر تم کسی کوسزا دینے لگو تو وہ سزا جرم
کے حساب سے ہو، اُس سے زیادہ نہ ہو اور اگر تم صبر کرو اور انتقام نہ لو تو بیشک
صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ شانِ نزول: جنگ ِاُحد میں کفار نے مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی
کرکے اُن کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا ، اُن کے پیٹ چاک کئے اور ان کے اعضاء کاٹے
تھے ، ان شہداء میں حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے تاجدارِ رسالت ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو آپ ﷺ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ ﷺ نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جائے گا اور ستر کا یہی حال کیا جائے
گا۔ اس
پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توحضورِ اقدس ﷺ نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا
کفارہ دے دیا۔ یاد رہے کہ مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی
کی ہَیئت کو تبدیل کرنا شریعت میں حرام ہے ۔
( 3 ) صبر کرنے والوں کا انعام :
اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا
اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
تفسیر
صراط الجنان: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے
کام کیے:
اس آیت کا معنی یہ ہے ’’لیکن وہ لوگ جنہوں نے
صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی مصیبت
پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا
ثواب یعنی جنت ہے۔
( 4 )صبر کرنے والوں کے ساتھ الله پاک ہے :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو:
اس سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا
اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر
و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے
مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی،
گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز
چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون
ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے
ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے
مشکل نمازہے ۔
( 5 ) اللہ پاک کی طرف سے آزمائش پر صبر کرنا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
اللہ
پاک ہمیں صبر کے فضائل پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خوشی
اور غمی دونوں اللہ کی طرف سے آتی ہیں، اللہ تعالی انسانوں کو پرکھنے کے لیے ان پر
آزمائش بھیجتا ہے مال اور اولاد عزت وغیرہ کے ذریعے اللہ تعالی انسان کو آزماتا ہے
تاکہ انسان مضبوط ہو انسان ان آزمائشوں پر صبر کرے اور آنے والی
تکلیفوں کو برداشت کرے۔ آئیے آج ہم قرآن مجید سے صبر
کے متعلق پڑھتے ہیں:
نماز
اور صبر سے مدد چاہنا:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
صبر
کرنے والوں کے لیے خوشنجری:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ
بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ
الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
ترجمۂ کنز العرفان:وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت
آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
صبر کامیابی
کی کنجی ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
مذکورہ آیتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جب ان پر کئی
مصیبت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم مال ہیں
اور اسی کی طرف پھر رہے ہیں اور جس نے احسن طریقے سے صبر کیا وہ کامیاب ہوا۔
اللہ تعالی ہمیں ہر آنے والی مصیبت پرصبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین
محمد
اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
صبر کی
تعریف : صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر
رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے
کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص676)
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2)طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں
سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل
تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 6 / 82)۔
آئیے قرآن
کریم میں صبر کرنے والے کے متعلق پڑھتے ہیں۔
(1)صبر
کرنے کا حکم : ارشاد باری تعالٰی ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
اس آیت
مبارکہ میں اللہ نے صبر کرنے کا حکم دیا ہے اورصبر کا معنی ہے نفس کو روکنا اس
سےجو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے وغیرہ شامل ہے۔
(2)اللہ
عزوجل کے محبوب اور ساتھ پانے والے: صبر
کرنے والے بندے اللہ عزوجل کے محبوب ہیں
اور اللہ عزوجل اپنے صبر کرنے والے بندوں کے ساتھ ہے جن کے بارے میں قرآن میں یوں
بیان کیا گیا ہے ارشاد باری تعالٰی ہے :
وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ
کنزالعرفان:اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
ایک
مقام پر فرمایا:
وَ
اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)
ترجمہ
کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)
(3)بخشش
ومغفرت پانے والے: اللہ
عزوجل کے صابر بندےجب انہیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ صبر سے کام لیتے ہیں اور جب
انہیں کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں، جو ایسے
اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت کا وعدہ کیا گیا
ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ارشاد باری تعالٰی ہے:
اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں نے صبر کیا
اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
(4)کامیابی
پانے والے: جو شخص اَذِیَّتوں اور مذاق
اڑائے جانے پر صبر کرے تو اس کو یہ بدلہ دیا کہ وہی ہمیشہ کے لئے جنت کی نعمتیں پا
کر کامیاب ہیں جس کے بارے میں قرآن کریم میں یوں بیان ہوا ہے:
اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱)
ترجمہ
کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
(5)ظلم
پر صبر کرنے والے: جس شخص
نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی
بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے
مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب
کرنا بہادری ہے۔
وَ لَمَنْ
صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ اگر ظالم سے بدلہ نہ لینے میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو ظلم پرصبر
کرلینا اور ظالم کو معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ
اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ
صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف
پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14،
النحل:126)
صبر
کرنے والے لوگ وقتی تکلیفیں تو برداشت کرتے ہیں، لیکن ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت،
ہدایت، اور جنت کی نعمتوں کے مستحق بن جاتے ہیں۔ اس
لیے ایک مؤمن کی پہچان یہی ہے کہ وہ نعمتوں پر شکر کرتا ہے اور آزمائشوں پر صبر۔
ہمیں
چاہیے کہ زندگی کے ہر لمحے میں، خوشی ہو یا غم، آسانی ہو یا تنگی ۔صبر کا دامن نہ
چھوڑیں۔ اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
آمین
اسلام
میں صبر کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔ صبر
کا مطلب یہ ہے کہ انسان مصیبت، دکھ، یا آزمائش میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی
رہے اور ناشکری نہ کرے۔ قرآن مجید نے صبر کی عظمت اور اس کے اجر کو کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے۔
(1) صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ آیت
بت آتی ہے کہ جو بندہ صبر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کا ساتھ دیتا ہے، اور یہی
سب سے بڑی کامیابی ہے۔
(2) صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یعنی
جنہوں نے مصیبتوں پر صبر کیا، اللہ ان کے اجر و ثواب کا کوئی حساب نہیں رکھے گا،
بلکہ اپنی رحمت سے عطا فرمائے گا۔
(3) آزمائش صبر والوں کی پہچان ہے: قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
بت آتی ہے کہ صبر کا حقیقی مقام اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان آزمائش میں ہو۔
رسولِ
اکرم ﷺ نے فرمایا: جو صبر کرتا ہے اللہ اسے
صابر بناتا ہے، اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع نعمت عطا نہیں کی گئی۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1469)
نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: مؤمن کا حال بھی عجیب ہے، ہر
حال میں اس کے لیے خیر ہے: اگر خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو اس میں خیر ہے، اور اگر
مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے تو اس میں بھی خیر ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2999)
قرآن و
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
صبر
اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صفت ہے۔
صبر
کرنے والوں کا اجر بے حساب ہے۔
آزمائش،
مومن کے ایمان کا امتحان ہے۔
صبر
کرنے والا ہر حال میں کامیاب رہتا ہے۔
صبر
صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ جس
نے صبر کیا، اللہ نے اُسے عزت دی، بلندی عطا فرمائی، اور دنیا و آخرت میں کامیابی
سے نوازا ۔
محمد
عمررضا ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
صبر کا
لغوی معنی برداشت کرنا اور روکنا ہے، جبکہ اصطلاح
میں یہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ کی رضا پر ثابت قدم رہنا ہے۔ یہ
ایمان کی ایک بنیادی صفت ہے، جس میں اطاعت پر ثابت قدمی، گناہوں سے رُکنا، اور مصیبتوں
کو برداشت کرنا شامل ہے۔ اس
پر چند آیات قرآنی ملاحظہ کیجئے:
(1): وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین
ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
تفسیر
صراط الجنان:وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل
کرو:
اس آیت
کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید
المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ،ان کی شریعت پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و
مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا
ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر
صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے
نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر
بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے
مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز
سے مدد چاہو۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1 / 50)
(2): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا:اے ایمان
والو:
اس سے
پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی
ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے
مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی،
گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز
چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون
ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے
ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے
مشکل نمازہے ۔ (روح
البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:153,1 / 257، ملخصاً)
حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام
النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)
(3): اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر
صراط الجنان:اَلصّٰبِرِیْنَ: صبر
کرنے والے:
دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 14، 1 / 234)
(4): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
تفسیر
صراط الجنان: اِصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا:صبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو:
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 /
340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 3/200 / 473، ملتقطاً)
ترجمۂ کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا
اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے
وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف:
128)
تفسیر
صراط الجنان: قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا:
فرعون کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں
کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی، اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام
نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں
کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک
زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے
بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ
فرما کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس
کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں
بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: 128، 2 / 129، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ:
128، ص381، ملتقطاً)
Dawateislami