اسلام
میں صبر کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔ صبر
کا مطلب یہ ہے کہ انسان مصیبت، دکھ، یا آزمائش میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی
رہے اور ناشکری نہ کرے۔ قرآن مجید نے صبر کی عظمت اور اس کے اجر کو کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے۔
(1) صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ آیت
بت آتی ہے کہ جو بندہ صبر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کا ساتھ دیتا ہے، اور یہی
سب سے بڑی کامیابی ہے۔
(2) صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یعنی
جنہوں نے مصیبتوں پر صبر کیا، اللہ ان کے اجر و ثواب کا کوئی حساب نہیں رکھے گا،
بلکہ اپنی رحمت سے عطا فرمائے گا۔
(3) آزمائش صبر والوں کی پہچان ہے: قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
بت آتی ہے کہ صبر کا حقیقی مقام اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان آزمائش میں ہو۔
رسولِ
اکرم ﷺ نے فرمایا: جو صبر کرتا ہے اللہ اسے
صابر بناتا ہے، اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع نعمت عطا نہیں کی گئی۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1469)
نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: مؤمن کا حال بھی عجیب ہے، ہر
حال میں اس کے لیے خیر ہے: اگر خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو اس میں خیر ہے، اور اگر
مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے تو اس میں بھی خیر ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2999)
قرآن و
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
صبر
اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صفت ہے۔
صبر
کرنے والوں کا اجر بے حساب ہے۔
آزمائش،
مومن کے ایمان کا امتحان ہے۔
صبر
کرنے والا ہر حال میں کامیاب رہتا ہے۔
صبر
صرف برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ جس
نے صبر کیا، اللہ نے اُسے عزت دی، بلندی عطا فرمائی، اور دنیا و آخرت میں کامیابی
سے نوازا ۔
Dawateislami