صبر کی تعریف :  صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص676)

صبر کی اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2)طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 6 / 82)۔

آئیے قرآن کریم میں صبر کرنے والے کے متعلق پڑھتے ہیں۔

(1)صبر کرنے کا حکم : ارشاد باری تعالٰی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

اس آیت مبارکہ میں اللہ نے صبر کرنے کا حکم دیا ہے اورصبر کا معنی ہے نفس کو روکنا اس سےجو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے وغیرہ شامل ہے۔

(2)اللہ عزوجل کے محبوب اور ساتھ پانے والے: صبر کرنے والے بندے اللہ عزوجل کے محبوب ہیں اور اللہ عزوجل اپنے صبر کرنے والے بندوں کے ساتھ ہے جن کے بارے میں قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے ارشاد باری تعالٰی ہے :

وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)

ترجمہ کنزالعرفان:اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

ایک مقام پر فرمایا:

وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)

ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

(3)بخشش ومغفرت پانے والے: اللہ عزوجل کے صابر بندےجب انہیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ صبر سے کام لیتے ہیں اور جب انہیں کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ارشاد باری تعالٰی ہے:

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

(4)کامیابی پانے والے: جو شخص اَذِیَّتوں اور مذاق اڑائے جانے پر صبر کرے تو اس کو یہ بدلہ دیا کہ وہی ہمیشہ کے لئے جنت کی نعمتیں پا کر کامیاب ہیں جس کے بارے میں قرآن کریم میں یوں بیان ہوا ہے:

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱)

ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)

(5)ظلم پر صبر کرنے والے: جس شخص نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)

ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر ظالم سے بدلہ نہ لینے میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو ظلم پرصبر کرلینا اور ظالم کو معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

صبر کرنے والے لوگ وقتی تکلیفیں تو برداشت کرتے ہیں، لیکن ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت، ہدایت، اور جنت کی نعمتوں کے مستحق بن جاتے ہیں۔ اس لیے ایک مؤمن کی پہچان یہی ہے کہ وہ نعمتوں پر شکر کرتا ہے اور آزمائشوں پر صبر۔

ہمیں چاہیے کہ زندگی کے ہر لمحے میں، خوشی ہو یا غم، آسانی ہو یا تنگی ۔صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔ اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین