خوشی
اور غمی دونوں اللہ کی طرف سے آتی ہیں، اللہ تعالی انسانوں کو پرکھنے کے لیے ان پر
آزمائش بھیجتا ہے مال اور اولاد عزت وغیرہ کے ذریعے اللہ تعالی انسان کو آزماتا ہے
تاکہ انسان مضبوط ہو انسان ان آزمائشوں پر صبر کرے اور آنے والی
تکلیفوں کو برداشت کرے۔ آئیے آج ہم قرآن مجید سے صبر
کے متعلق پڑھتے ہیں:
نماز
اور صبر سے مدد چاہنا:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
صبر
کرنے والوں کے لیے خوشنجری:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ
بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ
الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
ترجمۂ کنز العرفان:وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت
آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
صبر کامیابی
کی کنجی ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
مذکورہ آیتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جب ان پر کئی
مصیبت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم مال ہیں
اور اسی کی طرف پھر رہے ہیں اور جس نے احسن طریقے سے صبر کیا وہ کامیاب ہوا۔
اللہ تعالی ہمیں ہر آنے والی مصیبت پرصبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین
Dawateislami