محمد
عزیز عطاری (جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
دینی تعلیمات میں سےایک صبر بھی ہے جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور زندگی میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے قرآن مجید میں صبر کو نہ صرف ایمان
کی علامت قرار دیا گیا ہے بلکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت،
مدد اور جنت کی خوشخبری بھی دی گئی ہے۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)
بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2)طبعی خواہشات
اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔
صبر کے فضائل: قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال میں
صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے 10فضائل کا خلاصہ
درج ذیل ہے:
(1)
اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(2)
صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔
(3) صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا
(4)
صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے
دن لوگ حسرت کریں گے۔
(5)
صبر کرنے والے رب کریم عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔
(6)
صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔
(7)
صبر آدھا ایمان ہے۔
(8)
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
(9)
صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔
(10)
صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1 مکتبۃ المدینہ)
اَمْ
حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللہ الَّذِیْنَ
جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت
میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں
کی آزمائش کی۔ (پ3،
آل عمران :142)
ترجمہ کنز العرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی
پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں
اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ
سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے
ہوئے ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران: 120)
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami