فیضان
علی (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! جس طرح قرآن پاک میں ناشکری
کی مذمت بیان کی گئی ہے اسی کے ساتھ ساتھ صبر کے فضائل بیان کیے گئے ہیں آپ کے
سامنے چند آیات مبارکہ پیش کرتا ہوں:
(1)
خوشخبری سنادو صبر والوں کو :
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
(2) صبر
و پرہیزگاری :
اِنْ
تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا
بِهَاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠(۱۲۰)
ترجمہ
کنز العرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی
برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان
کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک
اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران: 120)
(3)
اللہ کے محبوب :
وَ
كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا
لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد
کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی
تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے
اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
(4) بڑی
ہمت کا کام :
لَتُبْلَوُنَّ
فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا
الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ
اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ضرور تمہاری
آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں
سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل
عمران: 186)
(5)
اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے :
وَ
اَطِیْعُوا اللہ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ
رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)
ترجمہ
کنز الایمان: اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر
بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بےشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10 ، الانفال: 46)
اللہ تعالی ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami