پیارے پیارے اسلامی بھائیو !  صبر انبیاء کرام علیہم السلام اور صالحین کی صفات میں سے ایک اعلیٰ صفت ہے اور راہِ حق میں تاجدار ِرسالت ﷺ کو جتنا ستایا گیا اور جتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی گئیں اور صبر کا جیسا مظاہرہ آپ نے فرمایا ویسا اور کوئی نہ کر سکا، جیسا کہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ڈرایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ڈرایا گیا اور جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ستایا گیا۔ ( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ الخ،34-باب، 4/ 213، الحدیث: 2480)

اسی ضمن میں صبر کے متعلق پانچ قرآنی آیات ذکر کی جاتی ہیں :

(1) صبر سے مدد چاہو:

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

تفسیرِ صراط الجنان: اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو۔ (تفسیرِ خازن، سُورۃ البقرہ، جلد 1، آیت 45، صفحہ 50 )

(2) ایک دوسرے کو صبر کی وصیت:

وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر:1تا3)

(3) صبر پر جنت:

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ(۱۱) وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِۚ-لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ(۱۳) وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا(۱۴)

ترجمۂ کنز الایمان:تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انھیں تازگی اور شادمانی دی ۔ اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹھر۔ اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردئیے ہوں گے ۔ ( پ 29، الدھر: 11تا14)

(4) کافروں کی باتوں پر صبر:

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)

تفسیر صراط الجنان: وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ: اور کافروں کی باتوں پر صبر کرو:

یعنی اے حبیب! ﷺ ، کفارِ قریش اللہ تعالیٰ کے بارے میں شریک،بیوی اور اولاد بتا کر خُرافات بکتے ہیں اور آپ کو جادوگر، شاعر، کاہِن اور مجنون کہہ کر آپ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور قرآن کو سابقہ لوگوں کی کہانیاں بتا کر اس کے بارے میں نازیْبا کلمات کہتے ہیں ،آپ کافروں کی ان باتوں پر صبر فرمائیں اورانہیں بدنی ،زبانی ، قلبی ہر اعتبار سے چھوڑ دیں اور ان کا معاملہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر دیں ۔ (تفسیرِ روح البیان،سورۃ المزمل، تحت الآیۃ: 10، 10 / 213)

(5) اچھی طرح صبر کرو:

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶)

ترجمہ کنزالایمان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔ اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ (پ29، المعارج: 5تا7 )

تفسیر صراط الجنان: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا: تو تم اچھی طرح صبر کرو:

اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے پیارے حبیب! ﷺ ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر اور مذاق اُڑانے کے طور پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرنے پر صبر ِجمیل فرمائیں اور کفار کی سختی پر تنگدل نہ ہوں کیونکہ کفارِ مکہ اس عذاب کو اپنے گمان میں ناممکن سمجھ رہے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ واقع ہونے والا ہی نہیں اور اسی وجہ سے عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری قدرت سے کوئی بعید نہیں اور نہ ہی ان پر عذاب نازل کرناہمارے لئے کوئی مشکل ہے ۔ (تفسیرِ روح البیان،سورۃ المعارج، تحت الآیۃ: 5-7، 10 / 159، ابو سعود، المعارج ، تحت الآیۃ: 5-7، 5 / 766، ملتقطاً)

اللہ پاک ہمیں بھی آزمائشوں کے وقت صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین