صبر انسانی زندگی کا ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو مشکلات،  آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے صبر کو اہلِ ایمان کی بنیادی صفات میں شمار کیا ہے اور جگہ جگہ اس کی فضیلت اور اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنی رحمت، مغفرت اور ہدایت کی خوشخبری سنائی ہے۔ درحقیقت صبر نہ صرف مصیبتوں پر برداشت کا نام ہے بلکہ یہ اطاعتِ الٰہی میں ثابت قدمی، گناہوں سے بچنے میں استقامت اور زندگی کے ہر حال میں اللہ پر بھروسے کا عملی اظہار ہے۔ اس موضوع پر قرآن کا بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صبر ایک اخلاقی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ کامیاب اور مومن زندگی کی بنیاد ہے۔ آئیے اس کے متعلق چند آیات مبارکہ ملاحظہ ہوں:

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

یوں قرآن مجید کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صبر ایک مومن کی پہچان اور ایمان کی پختگی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنی خاص معیت، بے حساب اجر اور جنت کی خوشخبری دی ہے۔ زندگی کی راہوں میں مشکلات اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں، مگر وہی انسان کامیاب ہے جو صبر کے ذریعے اپنے رب پر بھروسہ رکھتا ہے اور اس کے احکام پر ثابت قدم رہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کے اس پیغام کو حرزِ جاں بنائیں، ہر حال میں صبر اختیار کریں اور اللہ کی رضا کے متلاشی بنیں تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہو سکے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


  حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: الله عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی بندے کو اس کے جسم ، مال یا اوالاد کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں اور وہ اس پر صبر کرے تو بروز قیامت میں اس کے لئے میز ان قائم کروں یا اس کا نامہ اعمال کھولوں ۔ (2) مسند الشهاب ، 2/ 330، حدیث: 1462 )

(1) ظلم پر صبر کرنا : وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)

ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)

تفسیر روح البیان میں ہے کہ جو ظلم پر صبر کرتا ہے اور ظالم کو معاف کر دیتا ہے اس سے بدلہ نہیں لیتا بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالٰی کو سپرد کردیتا ہے ۔ ( کتاب: تفسیر روح البیان مترجم ، جلد: 10 ، پارہ: 25 ، سورہ شوری ، آیت نمبر : 43 ) مکتبہ غوثیہ )

(2 ) صبر کی وصیت :وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر:1تا3)

تفسیر صراط الجنان :

جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے والے ہیں کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں گزری ہے۔ ( کتاب صراط الجنان فی تفسیر القرآن ،پارہ : 30 ، سورہ : العصر ، جلد نمبر : 10 ، صفحہ نمبر : 818 مکتبۃ المدینہ )

(3) مشقت پر صبر کرنا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ (۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

تفسیر نعیمی میں مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں کہ صبر تین قسم کا ہے مصیبت میں صبر، اطاعت و عبادت پر صبر ، معصیت و گنا ہوں سے صبر، مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت پر صبر کرو ، ادائے فرائض پر ، تلاوت قرآن پر ، رب تعالٰی کے احکام پر اور کتاب و سنت کے احکام پر صبر کرو اور صابروا میں فرمایا :دشمنوں کے مقابلہ پر صبر کرو ، پڑوسیوں کے بدخلقی پر، دوستوں کی بے وفائی پر صبر کرو۔ ( کتاب : تفسیر نعیمی ، جلد نمبر : 4 ، پاره : 4، سورہ عمران ، صفحہ نمبر : 500 ، آیت نمبر : 200 مکتبہ : نعیمی کتب خانہ )

(4) مصیبت پر صبر کرنا : یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)

ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔ (پ21،لقمان : 17 )

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


صبر ان چیزوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے انسان اور جانوروں میں فرق ہوتا ہے۔ انسان اگر صبر کرے تو بہت بڑے بڑے نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ اللہ عزوجل نے بھی قرآن پاک میں صبر کرنے کی تلقین فرمائی،صبر کرنے والوں کی مدح اور نہ کرنے والوں کی مذمّت ارشاد فرمائی۔

آئیے ان آیات میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:

آیت نمبر 1: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)

ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)

تفسیر صراط الجنان:

اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے ۔

آیت نمبر 2: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵)

ترجمۂ کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29،المعارج:5)

آیت نمبر 3: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ26، الحجرات:5)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا: اور اگر وہ صبر کرتے:

اس آیت میں ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں رسولِ کریم ﷺ کوپکارنے کی بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا۔

آیت نمبر 4: اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱)

ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)

آیت نمبر 5: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲)

ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)

ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)

تفسیر صراط الجنان:

تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


ہمیشہ صبر سے کام لینا چاہیے زندگی کا کوئی بھی کام ہو یا فیصلہ صبر سے کرنا چاہیے الله ہمیشہ  صابروں کے ساتھ ھے صبر کے بڑے ھی فوائد ھیں قرآن و حدیث ہمیں صبر تعلیم دیتے ھیں قرآن و حدیث میں جگہ جگہ صبر کے بارے میں ملتا ہے ۔

آیئے اس بارے میں جانتے ہیں کہ قرآن پاک میں صبر کا کس طرح بیان ہوا ہے :

قرآن مجید میں صبر کا تصور: قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کو مومن کی ایک بنیادی صفت قرار دیا ہے۔ صبر ہر حالت میں مطلوب ہے ۔خوشی ہو یا غم، تکلیف ہو یا نعمت، مصیبت ہو یا فتنہ، مومن ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں صبر کو ایک طاقت، ایک ذریعہِ مدد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جب انسان کسی مشکل میں مبتلا ہو تو وہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرے۔

صبر کی اقسام:

علماء نے قرآن کی روشنی میں صبر کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:

طاعت پر صبر: اللہ کے احکامات پر عمل کرنے میں صبر کرنا، جیسے نماز کی پابندی، روزہ رکھنا، صدقہ دینا وغیرہ۔

معصیت سے بچنے پر صبر: گناہوں سے بچنے کے لیے نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا۔

مصیبت پر صبر: دکھ، بیماری، موت، نقصان یا کسی اور آزمائش پر جزع و فزع کیے بغیر اللہ کی رضا میں راضی رہنا۔

صبر کرنے والوں کا مقام: اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے عظیم اجر اور درجات کا وعدہ کیا ہے۔ سورہ الزمر میں فرمایا:

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

یعنی صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا فرمائے گا جس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ ان کے لیے نہ صرف دنیا میں کامیابی ہے بلکہ آخرت میں بھی بلند مقام ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ آزمائش زندگی کا حصہ ہے، لیکن کامیاب وہی ہے جو صبر کرے اور اللہ پر بھروسا رکھے۔

انبیاء کرام کی زندگی میں صبر: قرآن میں مختلف انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں سے ہمیں صبر کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔

حضرت ایوب علیہ السلام: جنہوں نے شدید بیماری، مال و اولاد کے نقصان پر صبر کیا۔ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا: وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴)

ترجمۂ کنز العرفان:اور (فرمایا) اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)

حضرت یوسف علیہ السلام: جنہوں نے بھائیوں کی زیادتی، غلامی، قید، اور جھوٹے الزام پر صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا فرمایا۔

حضرت محمد ﷺ: جنہوں نے کفارِ مکہ کی طرف سے ظلم و ستم، تکذیب، اور طعن و تشنیع پر صبر کیا اور کبھی بدلہ نہ لیا، بلکہ معاف کر دیا۔

صبر کا نتیجہ اور اجر: صبر کا سب سے بڑا اجر اللہ کی قربت ہے۔ قرآن کہتا ہے:

اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ: 153)

یہ سب سے بڑی خوشخبری ہے، کیونکہ اگر اللہ ساتھ ہو، تو کوئی مصیبت بڑی نہیں رہتی۔

اللہ پا ک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


انسانی زندگی خوشی و غم آسانی و تکلیف کامیابی و ناکامی کا مجموعہ ہے لیکن ان تمام کیفیتوں میں جو صفت انسان کو مضبوط اور اللہ تعالیٰ کے قریب رکھتی ہے وہ صبر ہے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی تاکید کی گئی ہے اور صبر کرنے والوں کو اللہ کی خاص معیت مدد اور اجر کی بشارت دی گئی ہے۔

صبر کی تعریف: لغت میں صبر کے معنی ہیں: روکنا، ضبط کرنا، اور اپنے آپ کو قابو میں رکھنا۔

اصطلاحِ شریعت میں صبر سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ کے حکم پر ثابت قدم رہنا، گناہ سے باز رہنا، مصیبت پر شکوہ نہ کرنا، اور آزمائش میں رضا بالقضا کا مظاہرہ کرنا۔ (راغب اصفہانی، مفردات القرآن، ص 275)

قرآن مجید میں صبر کے بارے میں ارشاد ربانی:

آیت نمبر 1: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

تفسیر صراط الجنان:

اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (تفسیر صراط الجنان، ج 1، ص 234، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

اصلاحی پہلو: زندگی کی آزمائشوں میں بے صبری، جزع فزع یا شکوہ کرنے کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا مؤمن کا شیوہ ہونا چاہیے۔

آیت نمبر 2: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

تفسیر صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا:

یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے (اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن ابن عباس، 12 / 141، الحدیث: 12829)

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ ( خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)

اصلاحی پہلو:مومن کو چاہیے کہ مصیبت یا محرومی میں ناامید نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جزا بے حساب ہے۔

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے ان مشکل لمحات میں انسان اپنے آپ کو جس چیز کے ذریعے واویلا وغیرہ کرنے سے بچا کر اجر عظیم پاسکتا ہے وہ صبر ہے۔ کیونکہ صدمہ پہنچنے کے وقت بے صبری کے کلمات کہے بغیر صبر کرنا صبرِ جمیل ہے اور اِسی پر اجرِ عظیم ہے ۔

قرآن میں بھی کئی جگہ صبر کے اجر بیان کیے گئے ہیں قرآن صبر کے مختلف درجات، اقسام اور انعامات کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے۔ کہیں صبر کو نماز کے ساتھ جوڑ کر مدد کا ذریعہ بنایا گیا ہے، تو کہیں صبر کرنے والوں کو اللہ کا محبوب قرار دیا گیا ہے۔ کہیں صبر کرنے والوں کے اجر بیان کیے ہیں کہیں بتایا ہے کہ اللہ صابروں کے ساتھ ہے، قرآن میں صبر کرنے والوں کے لیے عظیم بشارتیں اور انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تو آئیے ہم قرآن میں جو صبر کا بیان ہوا اس کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں:

(1) قرآن سےصبر کا مفہوم : اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4، آل عمران: 200)

تفسیر صراط الجنان میں ہے صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور مُصَابرہ میں گھر والوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ:200، 3 / 473، ملتقطاً)

(2) قراٰنِ پاک سے صبر کی اقسام: حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ قراٰنِ کریم میں تین قسم کا صبر بیان ہوا ہے :

(1)وہ صبر جو طاعت (عبادت) میں ہو۔

(2)وہ صبر جو حرام چیزوں سے بچنے پر کیا جائے۔

(3)وہ صبر جو مصیبت کی ابتدا میں کیا جائے۔ (احیاء علوم الدین، ص1412 دار ابن حزم بیروت، ملخصاً)

(3) قرآن میں صبر کی تاکید و ترغیب: قرآن میں مختلف طریقوں سے صبر کی تاکید کی گئی کہیں مسلمانوں کو صبر سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا تو کہیں حضور علیہ الصلوة والسلام کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کی تلقین فرمائی کہیں بدلہ لینے سے صبر کی ترغیب دی گئی۔

(۱) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

(۲) فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ

ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)

(۳) وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

(4) قرآن کے مطابق صبر کا انعام: قرآن میں کئی مقامات پر صبر کرنے والوں کو مختلف بشارتیں سنائی گئیں ترغیب کےلیے چند ملاحظہ ہوں:

(۱)اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔

وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)

ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

(۲)صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

(۳)صبر کرنے والے رب کریم عز وجل کی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں جیسا کہ اللہ پاک مصیبت پر صبر کرنے والوں کے بارے ارشاد فرماتا ہے:

اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

(5)انبیاء کا صبر:

(۱) وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳)

ترجمہ کنزالعرفان: اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (پ17، الانبیآء:83)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوآزمائش میں مبتلا کیا، حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا اور جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان چیزوں کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا، جب تک اس نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب اس نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں ہو سکتا اور میں اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ (خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: 83، 3 / 284-288، ملخصاً)

(۲) اور ارشاد فرماتا ہے:

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)

ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

اس سے معلوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مَصلحتوں کے پیش ِنظر اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے ، یاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں ،لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں اور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہے،یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگوں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکامات پر مضبوطی سے عمل کرتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور مَصائب و آلام آنے کی صورت میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین


راہ حق میں تاجدار ِرسالت  ﷺ کو جتنا ستایا گیا اور جتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی گئیں اور صبر کا جیسا مظاہرہ آپ نے فرمایا ویسا اور کوئی نہ کر سکا جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ڈرایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ڈرایا گیا اور جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ستایا گیا۔ ( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ الخ 34 باب 4 / 213 الحدیث 2480)

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ: اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے:

آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں یارب عَزَّوَجَلَّ پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا وہ عرض کرتے ہیں ہاں یارب عَزَّ وَجَلَّ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا فرشتے عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو۔(ترمذی کتاب الجنائز باب فضل المصیبۃ اذا احتسب 2 / 313 الحدیث 1023)

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)

تفسیر صراط الجنان:وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ: اور کافروں کی باتوں پر صبر کرو:

یعنی اے حبیب ﷺ کفارِ قریش اللہ تعالیٰ کے بارے میں شریک،بیوی اور اولاد بتا کر خُرافات بکتے ہیں اور آپ کو جادوگر شاعر کاہِن اور مجنون کہہ کر آپ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور قرآن کو سابقہ لوگوں کی کہانیاں بتا کر اس کے بارے میں نازیْبا کلمات کہتے ہیں آپ کافروں کی ان باتوں پر صبر فرمائیں اورانہیں بدنی ،زبانی قلبی ہر اعتبار سے چھوڑ دیں اور ان کا معاملہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر دیں۔ ( روح البیان المزمل تحت الآیۃ 10 10 / 213)

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ(۵) وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُﭪ(۶)وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)

ترجمہ کنزالایمان : اور بتوں سے دور رہو۔ اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو ۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کئے رہو۔ (پ29، المدثر5تا:7)

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے۔ (پ11، یونس:109)

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

اللہ پاک ہمیں قرآن پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 

صبر کی تین قسمیں ہیں: مصیبت میں صبر  ۔ عبادت میں صبر : نفس کو گناہ کی طرف جانے سے روکنے پر صبر ۔

آئیے قرآن میں صبر کی کیا اہمیت بیان ہوئی ہے وہ دیکھتے ہیں :

1: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

2: وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

(3) اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

(4) :وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

(5)اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ (۷۵) ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ (پ19، الفرقان:75)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں صبر جیسی نعمت عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


صبر ایک ایسی عظیم صفت ہے جسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت، فضیلت اور اجر و ثواب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ صبر کا لغوی معنی ٹھہرنا، رکنا اور ثابت قدم رہنا ہے، جبکہ اصطلاحی معنی میں یہ نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رکھنے، گناہوں سے بچنے اور مصائب و مشکلات میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ قرآن مجید نے صبر کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا ہے اور اہل ایمان کو ہر حال میں صبر اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔

صبر کی اقسام اور ان کا قرآنی تصور: قرآن مجید صبر کی کئی اقسام بیان کرتا ہے: اللہ کی اطاعت پر صبر: اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنا، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی میں استقامت اختیار کرنا۔

گناہوں سے بچنے پر صبر: نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کے باوجود گناہوں سے اجتناب کرنا۔

مصائب و مشکلات پر صبر: آزمائشوں ، بیماریوں، مالی نقصان یا کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال میں گھبرانے کے بجائے اللہ کی رضا پر راضی رہنا۔

قرآن مجید میں صبر کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنے والی متعدد آیات موجود ہیں:

(1) صبر کرنے والے اللہ کی معیت میں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے، اور یہ بشارت دی ہے کہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔

(2) صبر کرنے والوں کے لیے اجر عظیم: ایک اور مقام پر ارشاد ہے: اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

(3) صبر اور جہاد: جہاد میں صبر کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

اس آیت میں صبر، مصابرہ (ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا) اور مرابطہ (جہاد کے لیے تیار رہنا) کا حکم دیا گیا ہے، جس کا مقصد فلاح اور کامیابی کا حصول ہے۔

(4) صبر کا بدلہ بے حساب: اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے اجر کو بے حساب قرار دیا ہے: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ صبر کا اجر بہت عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی حساب کے عطا کرتا ہے۔

صبر کی فضیلت اور ثمرات: قرآن مجید صبر کے بے شمار ثمرات اور فضائل بیان کرتا ہے:

اللہ کی محبت اور معیت: صبر کرنے والے اللہ کے محبوب بندے ہوتے ہیں اور اللہ کی خاص مدد انہیں حاصل ہوتی ہے۔

ہدایت اور رحمت: صبر کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے ہدایت اور رحمت نصیب ہوتی ہے۔

اعلیٰ درجات: صبر کے ذریعے جنت میں اعلیٰ درجات حاصل ہوتے ہیں۔

گناہوں کی بخشش: مصائب پر صبر کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

کامیابی اور فلاح: دنیا اور آخرت کی کامیابی صبر کے ساتھ مشروط ہے۔

صبر کا عملی نمونہ: قرآن نے انبیاء کرام علیہم السلام کو صبر کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر، حضرت یوسف علیہ السلام کا صبر، اور حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں پیش آنے والی بے شمار مشکلات پر آپ کا صبر، یہ سب اہل ایمان کے لیے مشعل راہ ہیں۔

صبر ایک ایسی بنیادی اسلامی صفت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے، نفس کو پاکیزہ کرنے، اور مشکلات میں ثابت قدم رہنے کا ذریعہ ہے۔

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن مجید میں مختلف مقامات پر صبر کا ذکر نہ صرف ایک اخلاقی خوبی کے طور پر بلکہ نجات، کامیابی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بنیادی شرط کے طور پر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ: 153)

یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صبر محض ایک وقتی برداشت نہیں بلکہ ایمان کا مظہر اور اللہ کی معیت کا ذریعہ ہے۔

(1) صبر سے مدد چاہو : وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

(2) اللہ صابروں کے ساتھ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

(3) صبر کرنا : اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)

(4) صبر کیا اور اچھے کام کیے : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

(5) صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا: وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ(۱۱۴) وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللہ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بےشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ (اجر)ضائع نہیں کرتا۔ (پ12، ھود: 114، 115 )

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


رب ذوالجلال نے قرآن پاک میں بہت سے احکام بیان فرمائے ہیں جیسے : نماز ، روزہ، حج ،زکوتہ،قربانی اور وراثت کے احکام اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں عقائد کا بیان ، اخلاقی و معاشرتی مسائل ،معاشی مسائل ،قانونی مسائل ،روحانی مسائل ،طلاق کے مسائل ، وغیرہ اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں علم کے بارے میں بھی فرمایا ہے اسی طرح قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور ہر حال میں اللہ پاک پر یقین رکھتے ہیں آیئے ہم ان صبر کرنے والوں کےحوالے سے چند  قرآنی آیات ذکر کرتے ہیں ۔

( 1) صبر کرنے والوں کے لیے خوش خبری : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

(2) اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

(3) ہر مصیبت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے : الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 156)

(4 )صبر اور نماز سے مدد چاہو : وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسروں کو نیکیوں کی طرف راغب کرنے اور گناہوں سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اللہ کریم کی ذات بلند و برتر جس نے ہمیں صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور قرآن پاک میں کئی مقامات پر صبر کے بارے میں ارشاد بھی فرمایا ہے۔ آئیے صبر کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔

(1) صبر کی وصیت : وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر:1تا3)

تفسیر : اللہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش آئیں ۔ ( تفسیر صراط الجنان ، ج : 10 ، پارہ : 30 ، سورہ : عصر ، آیت : 3۔ 1 ، صفحہ : 817 مکتبۃ المدینہ )

(2) صبر کرنا: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) ترجمہ کنزالایمان : تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔ اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ (پ29، المعارج: 5تا7 )

تفسیر : اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے پیارے حبیب! ﷺ ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر اور مذاق اُڑانے کے طور پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرنے پر صبر ِجمیل فرمائیں ۔( تفسیر صراط الجنان ، ج : 10 ، پ : 29 ، سورہ المعارج ، آیت : 5۔ 7 ، ص : 340 مکتبۃ المدینہ)

(3) نیکیوں پر صبر : وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲)

ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہی کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔ (پ13، الرعد: 22)

(4) مشقت پر صبر کرنا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

(5) مصیبت پر صبر کرنا: یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)

ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔ (پ21،لقمان : 17 )