رضائے
مصطفی (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ
کریم کی ذات بلند و برتر جس نے ہمیں صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور قرآن پاک میں
کئی مقامات پر صبر کے بارے میں ارشاد بھی فرمایا ہے۔ آئیے صبر
کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔
(1) صبر کی وصیت : وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ
لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ
تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک
دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر:1تا3)
تفسیر
: اللہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی
عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے
اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک
دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش
آئیں ۔ ( تفسیر
صراط الجنان ، ج : 10 ، پارہ : 30 ، سورہ : عصر ، آیت : 3۔ 1 ، صفحہ
: 817 مکتبۃ المدینہ )
(2) صبر
کرنا: فَاصْبِرْ صَبْرًا
جَمِیْلًا(۵) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ
بَعِیْدًاۙ(۶) ترجمہ
کنزالایمان : تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ وہ
اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔ اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ (پ29، المعارج: 5تا7 )
تفسیر
: اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو
تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے پیارے حبیب! ﷺ ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر اور مذاق اُڑانے کے
طور پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرنے پر صبر ِجمیل فرمائیں ۔( تفسیر صراط الجنان ، ج : 10 ، پ : 29 ،
سورہ المعارج ، آیت : 5۔ 7 ، ص
: 340 مکتبۃ المدینہ)
(3) نیکیوں
پر صبر : وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا
ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا
رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ
اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲)
ترجمہ
کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی
رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری
راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہی
کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔ (پ13،
الرعد: 22)
(4)
مشقت پر صبر کرنا : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
(5) مصیبت
پر صبر کرنا: یٰبُنَیَّ
اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ
اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)
ترجمہ
کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے
منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔ (پ21،لقمان : 17 )
Dawateislami