احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادہوکی لاہور ، پاکستان)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: الله عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں
اپنے کسی بندے کو اس کے جسم ، مال یا اوالاد کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں اور
وہ اس پر صبر کرے تو بروز قیامت میں اس کے لئے میز ان قائم کروں یا اس کا نامہ
اعمال کھولوں ۔ (2) مسند الشهاب ، 2/ 330، حدیث: 1462 )
(1) ظلم
پر صبر کرنا : وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
تفسیر
روح البیان میں ہے کہ جو ظلم پر صبر کرتا ہے اور ظالم کو معاف کر دیتا ہے اس سے
بدلہ نہیں لیتا بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالٰی کو سپرد کردیتا ہے ۔ (
کتاب: تفسیر روح البیان مترجم ، جلد: 10 ، پارہ: 25 ، سورہ شوری ، آیت نمبر : 43 )
مکتبہ غوثیہ )
(2 )
صبر کی وصیت :وَ
الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک
دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر:1تا3)
تفسیر
صراط الجنان :
جو ایمان
لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی
اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں
انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے
والے ہیں کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں گزری ہے۔ ( کتاب صراط الجنان فی تفسیر القرآن ،پارہ
: 30 ، سورہ : العصر ، جلد نمبر : 10 ، صفحہ نمبر : 818 مکتبۃ المدینہ )
(3)
مشقت پر صبر کرنا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ
صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠
(۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
تفسیر
نعیمی میں مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں کہ صبر تین قسم کا ہے مصیبت میں
صبر، اطاعت و عبادت پر صبر ، معصیت و گنا ہوں سے صبر، مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت پر صبر کرو ، ادائے فرائض پر
، تلاوت قرآن پر ، رب تعالٰی کے احکام پر اور کتاب و سنت کے احکام پر صبر کرو اور صابروا میں فرمایا :دشمنوں کے مقابلہ پر صبر کرو ،
پڑوسیوں کے بدخلقی پر، دوستوں کی بے وفائی پر صبر کرو۔ (
کتاب : تفسیر نعیمی ، جلد نمبر : 4 ، پاره : 4، سورہ عمران ، صفحہ نمبر : 500 ،
آیت نمبر : 200 مکتبہ : نعیمی کتب خانہ )
(4) مصیبت
پر صبر کرنا : یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ
وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ
اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)
ترجمہ
کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے
منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔ (پ21،لقمان : 17 )
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami