صبر انسانی زندگی کا ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو مشکلات،  آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے صبر کو اہلِ ایمان کی بنیادی صفات میں شمار کیا ہے اور جگہ جگہ اس کی فضیلت اور اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنی رحمت، مغفرت اور ہدایت کی خوشخبری سنائی ہے۔ درحقیقت صبر نہ صرف مصیبتوں پر برداشت کا نام ہے بلکہ یہ اطاعتِ الٰہی میں ثابت قدمی، گناہوں سے بچنے میں استقامت اور زندگی کے ہر حال میں اللہ پر بھروسے کا عملی اظہار ہے۔ اس موضوع پر قرآن کا بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صبر ایک اخلاقی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ کامیاب اور مومن زندگی کی بنیاد ہے۔ آئیے اس کے متعلق چند آیات مبارکہ ملاحظہ ہوں:

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

یوں قرآن مجید کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صبر ایک مومن کی پہچان اور ایمان کی پختگی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنی خاص معیت، بے حساب اجر اور جنت کی خوشخبری دی ہے۔ زندگی کی راہوں میں مشکلات اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں، مگر وہی انسان کامیاب ہے جو صبر کے ذریعے اپنے رب پر بھروسہ رکھتا ہے اور اس کے احکام پر ثابت قدم رہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کے اس پیغام کو حرزِ جاں بنائیں، ہر حال میں صبر اختیار کریں اور اللہ کی رضا کے متلاشی بنیں تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہو سکے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین