راہ حق میں تاجدار ِرسالت  ﷺ کو جتنا ستایا گیا اور جتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی گئیں اور صبر کا جیسا مظاہرہ آپ نے فرمایا ویسا اور کوئی نہ کر سکا جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ڈرایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ڈرایا گیا اور جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ستایا گیا۔ ( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ الخ 34 باب 4 / 213 الحدیث 2480)

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ: اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے:

آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں یارب عَزَّوَجَلَّ پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا وہ عرض کرتے ہیں ہاں یارب عَزَّ وَجَلَّ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا فرشتے عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو۔(ترمذی کتاب الجنائز باب فضل المصیبۃ اذا احتسب 2 / 313 الحدیث 1023)

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔ (پ29، المزمل:10)

تفسیر صراط الجنان:وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ: اور کافروں کی باتوں پر صبر کرو:

یعنی اے حبیب ﷺ کفارِ قریش اللہ تعالیٰ کے بارے میں شریک،بیوی اور اولاد بتا کر خُرافات بکتے ہیں اور آپ کو جادوگر شاعر کاہِن اور مجنون کہہ کر آپ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور قرآن کو سابقہ لوگوں کی کہانیاں بتا کر اس کے بارے میں نازیْبا کلمات کہتے ہیں آپ کافروں کی ان باتوں پر صبر فرمائیں اورانہیں بدنی ،زبانی قلبی ہر اعتبار سے چھوڑ دیں اور ان کا معاملہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر دیں۔ ( روح البیان المزمل تحت الآیۃ 10 10 / 213)

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ(۵) وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُﭪ(۶)وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)

ترجمہ کنزالایمان : اور بتوں سے دور رہو۔ اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو ۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کئے رہو۔ (پ29، المدثر5تا:7)

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے۔ (پ11، یونس:109)

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

اللہ پاک ہمیں قرآن پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین