انسانی زندگی خوشی و غم آسانی و تکلیف کامیابی و ناکامی کا مجموعہ ہے لیکن ان تمام کیفیتوں میں جو صفت انسان کو مضبوط اور اللہ تعالیٰ کے قریب رکھتی ہے وہ صبر ہے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی تاکید کی گئی ہے اور صبر کرنے والوں کو اللہ کی خاص معیت مدد اور اجر کی بشارت دی گئی ہے۔

صبر کی تعریف: لغت میں صبر کے معنی ہیں: روکنا، ضبط کرنا، اور اپنے آپ کو قابو میں رکھنا۔

اصطلاحِ شریعت میں صبر سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ کے حکم پر ثابت قدم رہنا، گناہ سے باز رہنا، مصیبت پر شکوہ نہ کرنا، اور آزمائش میں رضا بالقضا کا مظاہرہ کرنا۔ (راغب اصفہانی، مفردات القرآن، ص 275)

قرآن مجید میں صبر کے بارے میں ارشاد ربانی:

آیت نمبر 1: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

تفسیر صراط الجنان:

اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (تفسیر صراط الجنان، ج 1، ص 234، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

اصلاحی پہلو: زندگی کی آزمائشوں میں بے صبری، جزع فزع یا شکوہ کرنے کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا مؤمن کا شیوہ ہونا چاہیے۔

آیت نمبر 2: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

تفسیر صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا:

یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے (اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن ابن عباس، 12 / 141، الحدیث: 12829)

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ ( خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)

اصلاحی پہلو:مومن کو چاہیے کہ مصیبت یا محرومی میں ناامید نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جزا بے حساب ہے۔

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین