رب
ذوالجلال نے قرآن پاک میں بہت سے احکام بیان فرمائے ہیں جیسے : نماز ، روزہ، حج
،زکوتہ،قربانی اور وراثت کے احکام اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں عقائد کا بیان ،
اخلاقی و معاشرتی مسائل ،معاشی مسائل ،قانونی مسائل ،روحانی مسائل ،طلاق کے مسائل
، وغیرہ اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں علم کے بارے میں بھی فرمایا ہے اسی طرح قرآن
پاک میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں
اور ہر حال میں اللہ پاک پر یقین رکھتے ہیں آیئے ہم ان صبر کرنے والوں کےحوالے سے
چند قرآنی آیات ذکر کرتے ہیں ۔
( 1)
صبر کرنے والوں کے لیے خوش خبری : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ
الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ
الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
(2)
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(3) ہر
مصیبت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے : الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت
آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
(4 )صبر
اور نماز سے مدد چاہو : وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین
ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسروں کو نیکیوں کی طرف راغب کرنے اور گناہوں سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami