زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے ان مشکل لمحات میں انسان اپنے آپ کو جس چیز کے ذریعے واویلا وغیرہ کرنے سے بچا کر اجر عظیم پاسکتا ہے وہ صبر ہے۔ کیونکہ صدمہ پہنچنے کے وقت بے صبری کے کلمات کہے بغیر صبر کرنا صبرِ جمیل ہے اور اِسی پر اجرِ عظیم ہے ۔

قرآن میں بھی کئی جگہ صبر کے اجر بیان کیے گئے ہیں قرآن صبر کے مختلف درجات، اقسام اور انعامات کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے۔ کہیں صبر کو نماز کے ساتھ جوڑ کر مدد کا ذریعہ بنایا گیا ہے، تو کہیں صبر کرنے والوں کو اللہ کا محبوب قرار دیا گیا ہے۔ کہیں صبر کرنے والوں کے اجر بیان کیے ہیں کہیں بتایا ہے کہ اللہ صابروں کے ساتھ ہے، قرآن میں صبر کرنے والوں کے لیے عظیم بشارتیں اور انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تو آئیے ہم قرآن میں جو صبر کا بیان ہوا اس کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں:

(1) قرآن سےصبر کا مفہوم : اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4، آل عمران: 200)

تفسیر صراط الجنان میں ہے صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور مُصَابرہ میں گھر والوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ:200، 3 / 473، ملتقطاً)

(2) قراٰنِ پاک سے صبر کی اقسام: حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ قراٰنِ کریم میں تین قسم کا صبر بیان ہوا ہے :

(1)وہ صبر جو طاعت (عبادت) میں ہو۔

(2)وہ صبر جو حرام چیزوں سے بچنے پر کیا جائے۔

(3)وہ صبر جو مصیبت کی ابتدا میں کیا جائے۔ (احیاء علوم الدین، ص1412 دار ابن حزم بیروت، ملخصاً)

(3) قرآن میں صبر کی تاکید و ترغیب: قرآن میں مختلف طریقوں سے صبر کی تاکید کی گئی کہیں مسلمانوں کو صبر سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا تو کہیں حضور علیہ الصلوة والسلام کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کی تلقین فرمائی کہیں بدلہ لینے سے صبر کی ترغیب دی گئی۔

(۱) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

(۲) فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ

ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)

(۳) وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

(4) قرآن کے مطابق صبر کا انعام: قرآن میں کئی مقامات پر صبر کرنے والوں کو مختلف بشارتیں سنائی گئیں ترغیب کےلیے چند ملاحظہ ہوں:

(۱)اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔

وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)

ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

(۲)صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

(۳)صبر کرنے والے رب کریم عز وجل کی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں جیسا کہ اللہ پاک مصیبت پر صبر کرنے والوں کے بارے ارشاد فرماتا ہے:

اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

(5)انبیاء کا صبر:

(۱) وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳)

ترجمہ کنزالعرفان: اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (پ17، الانبیآء:83)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوآزمائش میں مبتلا کیا، حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا اور جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان چیزوں کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا، جب تک اس نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا، جب اس نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں ہو سکتا اور میں اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ (خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: 83، 3 / 284-288، ملخصاً)

(۲) اور ارشاد فرماتا ہے:

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)

ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

اس سے معلوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مَصلحتوں کے پیش ِنظر اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے ، یاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں ،لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں اور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہے،یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگوں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکامات پر مضبوطی سے عمل کرتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور مَصائب و آلام آنے کی صورت میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین