جب سلیمان بن عبدالملک کا بیٹا فوت ہوا تو اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز سے دریافت کیا :کیا مؤمن اتنا صبر کرے کہ اسے مصیبت محسوس ہی نہ ہو؟ فرمایا:پسند اور ناپسند آپ کے  لیے یکساں نہیں ہو سکتے مگر اتنا ضرور ہے کہ صبر مؤمن کا مددگار ہے۔ (حضرت عمر بن عبدالعزیز کی 425 حکایات صفحہ 350تا 351)

صبر کی اقسام: صبر کی تین قسمیں ہیں:

(1) مصیبت میں صبر

(2) عبادت اور اطاعت کی مشقتوں پر صبر

(3) نفس کو گناہ کی طرف جانے سے روکنے پر صبر۔(حضرت عمر بن عبدالعزیز کی 425 حکایات صفحہ 350تا 351)

پیارے اسلامی بھائیو! قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے کئی مقامات پر صبر کی بارے میں ارشادات فرمائے ۔

آئیے چند قرآن پاک سے آیات اور ترجمہ دیکھتے ہیں:

(1) صبر والوں کی آزمائش:

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللہ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲)

ترجمۂ کنز الایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی۔ (پ3، آل عمران :142)

تفسیر صراط الجنان:اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ : کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے؟ :

یہاں مسلمان پر آنے والی آزمائشوں کی حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر تمہیں آزمائشیں آتی ہیں تو اس پر بے قرار اور حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ کیوں تکلیفوں میں مبتلا فرما رہا ہے؟یاد رکھو کہ تمہارا امتحان کیا جائے گا، تمہیں ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف اُٹھاتے ہو اور کتنا ثابت قدم رہتے ہو۔ تھوڑی سی تکلیف پر چِلّا اٹھنا اور دہائی دینا شروع کردینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ جنت میں داخلہ مطلوب ہے تو ان آزمائشوں پر پورا اترنا پڑے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں قربانی دینا پڑے گی اور ہر حال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

زباں پہ شکوہِ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے

نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

اِس میں اُن لوگوں کو سرزنش (تنبیہ) ہے جو اُحد کے دن کفار کے مقابلہ سے بھی آگے تھے۔ نیز اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے اعمال اور اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمیں راہِ خدا میں اپنا مال یا وقت دینا پڑے تو ہم اس میں کتنا پورا اترتے ہیں ؟ افسوس کہ ہماری حالت کچھ اچھی نہیں۔ فضولیات میں خرچ کرنے کیلئے پیسہ بھی ہے اور وقت بھی لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرتے وقت نہ پیسہ باقی رہتا ہے اور نہ وقت۔

آیت میں علم کا لفظ ہے ، یہاں اس سے مراد آزمائش کرنا ہے۔

(2) اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا:

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲)

ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

تفسیر صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا:جنہوں نے صبر کیا :

یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا اور وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے اس پر راضی ہیں اور مخلوق سے رشتہ منقطع کرکے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے۔

(3) رسول الله کو صبر کی تلقین :

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ(۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان: تو اے محبوب تم صبر کرو بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو ۔ (پ 24المؤمن: 55)

تفسیر صراط الجنان: فَاصْبِرْ: توتم صبر کرو:

اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد فرمائے گا اور اب یہاں سے نبی کریم ﷺ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! ﷺ ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی ایذا پر صبر کرتے رہیں ،بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس نے جس طرح پہلے رسولوں کی مدد فرمائی اسی طرح وہ آپ کی مدد بھی فرمائے گا، آپ کے دین کو غالب کرے گا اور آپ کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا نیز آپ اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر ہمیشہ قائم رہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بولنے سے پانچوں نمازیں مراد ہیں ۔

(4) صبر کا اجر:

اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ (۷۵)خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶)

ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ۔ (پ19، الفرقان:75، 76)

تفسیر صراط الجنان: اُولٰٓىٕكَ: انہیں :

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالٰی نے اپنے صالحین بندوں کے اوصاف ذکر فرمائے، اس کے بعد یہاں اُن کی جزا ذکر فرمائی جارہی ہے۔ چنانچہ ا س آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالٰی کی اطاعت پر ڈٹے رہنے،گناہوں سے بچنے، کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے، اِستقامت کے ساتھ عبادت کرنے اور فقر و فاقہ پر صبر کرتے رہنے کے سبب جنت کا سب سے اونچا درجہ انعام میں دیا جائے گا اور اس بلند درجے میں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا۔ یہ استقبال یوں ہوگا کہ فرشتے دعائے خیر اورسلام کے ساتھ ان کی تعظیم و تکریم کریں گے یا یوں ہو گا کہ اللہ تعالٰی ان کی طرف سلام بھیجے گا۔ مزید ارشاد فرمایاکہ وہ ا س بلند درجے میں ہمیشہ رہیں گے، وہ کیا ہی اچھی ٹھہرنے اورقیام کرنے کی جگہ ہے۔

(5) صبر کی وصیت :

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ(۱۷) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸)

ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہو ا اُن سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ د ہنی طرف والے ہیں ۔ (پ30، البلد:17، 18)

تفسیر صراط الجنان: ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: پھران میں سے ہوجو ایمان لائے:

یعنی یہ تمام عمل اُس وقت مقبول ہیں اور اُسی صورت یہ اعمال کرنے والے کے بارے کہا جائے گاکہ وہ گھاٹی میں کودا کہ جب یہ اعمال کرنے والا ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں گناہوں سے باز رہنے اور عبادات بجالانے اور ان مشقتوں کو برداشت کرنے پر صبر کی نصیحتیں کیں جن میں مومن مبتلا ہوں اور انہوں نے آپس میں مہربانی کی تاکیدیں کیں کہ مومنین ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کریں اور اگر وہ ایمان دار نہیں تو اس کے لئے کچھ نہیں بلکہ اس کے سب عمل بیکار ہیں۔

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین