محمد
عدنان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
ہمارا
پیارا دین اسلام ہماری ہر شعبہ زندگی میں
ہماری راہنمائی کرتا ہے جس طرح ہمیں شکر و اخلاص اپنانے کا حکم دیتا ہے اسی طرح
مصائب و تکالیف پر صبر اختیار کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔
آئیے ہم بھی صبر کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت
حاصل کرتے ہیں :
وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ
اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ دولت صبرکرنے
والوں کو ہی ملتی ہے اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔ (پ24، حٰم السجدۃ:
35)
اور یہ
دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے یعنی برائیوں کو بھلائیوں سے ٹال دینے جیسی عظیم
خصلت کی دولت ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو تکلیفوں اور مصیبتوں وغیرہ پر صبر کرتے ہیں
اور یہ دولت اسے ہی ملتی ہے جو بڑے نصیب والا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان ج/8 ص/642)
2)صبر کی
وصیت: اِلَّا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ
تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂ کنز الایمان: مگر جو ایمان لائے اور اچھے
کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔ (پ30، العصر: 3)
مگر جو
ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید
کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ
میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے
والے ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان ج/10 ص/817)
(3) صبر
کا انعام: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ
کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
اس آیت
اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو
گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں
داخل کرے گا ۔ (تفسیر صراط الجنان
ج/10ص/478)
(4)مصیبت
پر صبر:
ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹے نماز برپا
رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر
پڑے اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں ۔ (پ21،لقمان : 17 )
اس سے
پہلی آیت میں ذکر ہوا کہ حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو
عقائد کے حوالے سے نصیحت کی اور یہاں سے ان کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں
نے اپنے بیٹے کو ظاہری اعمال کے حوالے سے کی ۔ (تفسیر صراط الجنان ج/7ص/495)
(5) صبر
کا انجام:
سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)
ترجمہ
کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم
نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)
فرشتے
روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر
جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی
ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر
صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (
تفسیر صراط الجنان ج/5 ص/113)
اللہ
تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قرآن وسنت پر عمل کرنے اور ہمیشہ ہر حال
میں صبر و تحمل اور بردباری سے کا لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami