صبر کی تعریف : صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)

قرآن مجید اور آحادیث کثیرہ میں مختلف مقامات پر صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ آیئے چند آیات ملاحظہ فرمائیں :

صبر پر جنت : وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)

حدیث میں ہے : صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، 12 / 141، الحدیث: 12829)

رب کے لیے صبر : وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷) ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے رب کے لیے صبر کئے رہو۔ (پ29، المدثر:7)

صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں:

وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

صبر ہمت کا کام : وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)

وَ لَمَنْ صَبَرَ: اور بیشک جس نے صبر کیا : یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔(تفسیر صراط الجنان تحت الآیۃ۔)

نصف ایمان :

حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔ (معجم الکبیر، خطبۃ ابن مسعود ومن کلامہ، 9 / 104، الحدیث: 8544)

ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے ظلم اور شریروں کے شر سے محفوظ فرمائے،اور ظلم ہونے کی صورت میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین