محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے سلام بھائیو ! صبر کرنے والوں کی صفات
اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں بیان فرمائی اور قرآن پاک میں کئی مرتبہ اس کا ذکر فرمایا اور اکثر درجات اور
بھلائیاں کو اسی کی طرف منسوب کیا اور اس کا پھل قرار دیا۔ اسی
طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بہت سی احادیث مبارکہ میں صبر کی فضیلت بیان
فرمائی ،صبر کرنے کی تلقین فرمائی پیارے پیارے
اسلام بھائیو !آئیے ہم بھی چند آیات مبارکہ صبر کے بارے میں پڑھتے ہیں:
(1) صبر
میں دشمنوں سے آگے رہو :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ
کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی
سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4،
آل عمران: 200)
اِصْبِرُوْا
وَ صَابِرُوْا:صبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو :
صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ ( تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200،
3 / 473،ً)
(2) اگر تم صبر کرتے رہو :
لَتُبْلَوُنَّ
فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ - وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا
الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ
اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶)
ترجمۂ کنز العرفان: بیشک تمہارے مالوں اور
تمہاری جانوں کے بارے میں تمہیں ضرور آزمایا جائے گا اورتم ضرور ان لوگوں سے جنہیں
تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے اور اگر تم صبر
کرتے رہو اور پرہیز گاربنو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔ (پ4، آل
عمران: 186)
(3) صبر
کرنا انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کی سنت مبارکہ ہیں
وَ
لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ
اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ-
ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو
جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ
ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
(4) صبر کرو :
قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِ اللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ
لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا
اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے
وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف: 128)
(5) دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے :
وَ
مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ
حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)
ترجمۂ کنز العرفان: اور یہ دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے
اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔ (پ24، حٰم السجدۃ: 35)
تفسیر
صراط الجنان: وَ مَا
یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا: اور یہ دولت صبرکرنے والوں کو
ہی ملتی ہے :
یعنی برائیوں کو بھلائیوں سے ٹال دینے جیسی عظیم
خصلت کی دولت ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو تکلیفوں اور مصیبتوں وغیرہ پر صبر کرتے ہیں
اور یہ دولت اسے ہی ملتی ہے جو بڑے نصیب والا ہے۔
آج کل
ہمارے معاشرے میں صبر بالکل ہی ختم ہوتا جا رہا ہے جس کی بنا پر ہمارے معاشرے میں
لڑائیاں جھگڑے لا تعلقیاں بڑھتی جا رہی ہیں صبر کرنے میں بہت اجر ہے اس کے بارے میں
اللہ پاک نے اپنے پاک کلام کی کئی آیات میں ارشاد فرمایا اور حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے کئی احادیث مبارکہ میں صبر کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ اور اسی طرح باقی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی قوموں کو
صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ کئی
بزرگان دین کے اقوال صبر کے بارے میں ملتے ہیں کہ آپ نے اپنے متبعین کو اپنے پیروکاروں
کو صبر کی تلقین فرمائی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو صبر
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami