صبر کا کر لغوی معنی رکنے کے ہیں اور اصطلاح میں صبر اس چیز کا نام ہے کہ نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو ۔(المفردات الامام راغب حرف الصاد صفحہ نمبر 474)

صبر ایک ایسی چیز ہے جسے دنیا میں ہر شخص مانتا ہے لیکن اس پر عمل صرف وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں ان کی حقیقت معلوم ہو ۔

رہے صبر کے فضائل تو رب تعالی نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا ہے اور اکثر درجات اور بھلائیوں کو صبر سے منسوب کیا ہے اور انہیں صبر کا پھل قرار دیا ہے اور صابروں کے لیے ایسے انعامات رکھے ہیں جو کسی اور کے لیے نہیں رکھے چنانچہ ان فضائل میں سے چند قرآنی فضائل بیان کیے جا رہے ہیں :

اے ایمان والو صبر کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ (۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

حضرت سیدنا امام ابو جعفر محمد بن جرید طبری رحمۃ اللہ علیہ تفسیر میں اس آیت مقدسہ کے تحت فرماتے ہیں یعنی اے ایمان والوں اپنے دین اور اس وعدے پر صبر کرو جو میں نے تم سے کیا ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں صبر کرنے میں ان سے آگے بڑھ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنے باطل دین کو چھوڑ کر دامن اسلام سے وابستہ ہو جائیں۔( تفسیر طبری پارہ نمبر چار ال عمران آیت نمبر 200 جلد نمبر تین صفحہ نمبر 562)

مومن کی آزمائش: پارہ نمبر دو سورہ بقرہ آیت نمبر 155 میں جانو مال کے کمی اور بھوک اور خوف پر صبر کرنے والوں کو یوں خوش خبری سنائی گئی ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

حضرت سیدنا امام ابو جعفرمحمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ تفسیر طبری میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: یعنی ہم تمہیں دشمن کے خوف شدید بھوک و فقر و فاقہ فصلوں کی کمی مقاصد کے حصول میں مشکلات کفار سے جنگ کے دوران افرادی قوت میں کمی اور اہل و عیال کی موت وغیرہ کے ذریعے آزمائیں گے اور یہ سب چیزیں ہماری جانب سے بطور امتحان ہوں گی تاکہ تمہارے سچے جھوٹوں سے اور اہل بصیرت منافقوں سے جدا ہو جائیں۔ ( تفسیر طبری پارہ نمبر دو البقرہ تحت آیت155 جلد نمبر دو صفحہ نمبر 44)

صبر کرنا با ہمت لوگوں کا کام ہے: پارہ نمبر 25 سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 43 میں فرمان باری تعالی ہے : وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)

حضرت علامہ شیخ محمد اسماعیل حقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز تفسیر روح البیان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: درحقیقت صبر جوان مردوں کا کام ہے کہ وہ ہر ظلم و جفا پر صبر کرنے کی قوت رکھتے ہیں حضرت ابو سعید قرشی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تکالیف و مصائب اور ناگوار امور پر صبر کرنا انتباہ کی علامت ہے یعنی جو ناگوار امر پر صبر کرتا ہے اور جزع و فزع یعنی رونا پیٹنا نہیں کرتا اللہ عزوجل اسے اپنی رضا عطا فرماتا ہے اور صوفیا ئے کرام رحمہ اللہ السلام کے نزدیک رضائے الہی کا حصول بہت بڑے امور میں سے ہے اور جو شخص صبر نہیں کرتا بلکہ جزع و فزع یعنی رونا پیٹنا کرتا ہے۔ اللہ کریم اسے نفس کے سپرد کر دیتا ہے پھر اسے شکوہ شکایت سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا بعض مشائخ کرام رحمہم اللہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص تکالیف پر ایسا صبر کرے کہ کسی کے سامنے شکایت نہ کرے بلکہ اپنی مخالف کو معاف کر دے اور اپنے نفس کو اپنے مخالف پر دنیا و آخرت میں کوئی دعوی باقی نہ رکھے تو یہ اس آیت پر عمل کرنا ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی۔( روح البیان پارہ نمبر 25 سورہ شوری کی آیت نمبر 43 جلد نمبر اٹھ صفحہ نمبر 336 سے 338)

صابرین اور مجاہدین کا امتحان: ارشاد باری تعالی ہے: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَۙ-وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ(۳۱) ترجمہ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیں تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں ۔ (پ26، محمد:31)

حضرت سیدنا امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اہل ایمان سے فرمایا : اے مومنو ہم تمہیں قتل اور اپنے دشمنوں سے جہاد کے ذریعے آزمائیں گے تاکہ مجاہدین میں سے ہمارا لشکر اور تمہارے اولیاء پہچانے جائیں اور ہمارے دشمنوں سے جہاد پر صبر کرنے والے پہچانے جائیں دین میں بصیرت رکھنے والے اور شک کرنے والے اسی طرح مومنین اور منافقین پہچانے جائیں اور ہم تم میں سے سچوں اور جھوٹوں کو جانچ لیں۔ (تفسیر طبری پارہ نمبر 26 سورہ محمد آیت نمبر 31 جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 325)