محمد
عبید رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہ
دین زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو راہِ ہدایت عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں انسان کی تربیت کے لیے جن اوصاف کو خاص اہمیت دی گئی ہے، اُن
میں سے ایک نمایاں وصف صبر ہے۔ صبر نہ صرف اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایمان کا بنیادی جز بھی ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو مومن کی پہچان اور کامیابی قرار دیا گیا ہے۔
صبر کی
تعریف: صبر کے معنی ہیں روکنا، ٹھہرنا، برداشت کرنا ۔ قرآن کے مطابق صبر صرف غم یا مصیبت پر خاموش رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے
نفس کو حق کے راستے پر قائم رکھنے، برائی سے بچنے اور مصائب میں ثابت قدم رہنے کا
نام ہے۔
قرآن میں
صبر کی فضیلت:
قرآنِ
کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر صبر کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک سورہ بقرہ کی آیت نمبر 153 میں
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
یہ آیت
مومن کے دل میں قوت و تسلی پیدا کرتی ہے کہ جو شخص صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی
معیت حاصل کر لیتا ہے۔ اللہ کی قربت سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔
اسی
طرح سورہ زمر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا گیا: اِنَّمَا یُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یہ آیت
صبر کے اجر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو کتنا بڑا
انعام عطا فرمائے گا۔
قرآن مجید نے صبر کو مختلف مواقع پر لازم قرار دیا
ہے:
(1) مصیبت کے وقت صبر: اللہ پاک سورہ بقرہ کی آیت نمبر
155 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز العرفان: اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
(2) عبادت میں صبر: نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر
عبادات میں صبر ضروری ہے کیونکہ یہ نفس پر بھاری ہوتی ہیں۔
(3) گناہوں سے بچنے میں صبر: حضرت یوسف
کا قصہ قرآن میں بہترین مثال ہے کہ انہوں نے گناہ سے بچنے کے لیے صبر کیا اور اللہ
نے انہیں عزت بخشی۔
(4) حق پر ڈٹے رہنے میں صبر: انبیاء
علیہم السلام نے حق کی دعوت دیتے ہوئے صبر کیا اور مخالفتوں کے باوجود پیغامِ حق
سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انبیاء
کے صبر کی مثالیں:
قرآن میں
انبیاء کرام کے صبر کو بطور نمونہ بیان کیا گیا ہے: چنانچہ
اللہ پاک سورہ انبیاء کی آیت نمبر 83 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ
الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳)
ترجمہ
کنزالعرفان: اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف
پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (پ17،
الانبیآء:83)
اسی
طرح سورہ یوسف کی آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا:
وَ
جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ-قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ
اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-وَ اللہ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا
تَصِفُوْنَ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان: اور وہ اس کے کر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ یعقوب
نے فرمایا: بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے تو صبر اچھا اور تمہاری
باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ (پ12، یوسف:18)
صبر اور
کامیابی کا تعلق: قرآن مجید میں
صبر کو کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے: چنانچہ
اللہ پاک سورہ آل عمران کی آیت نمبر 200 میں ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)
ترجمۂ
کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی
سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4،
آل عمران: 200)
صبر ایک
ایسی قوت ہے جو انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتی ہے، گناہوں سے بچاتی ہے، اور
اللہ کی رضا تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ صبر کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جو شخص صبر کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمت، مغفرت اور قرب کا
مستحق بنتا ہے اور اللہ کا پسندیدہ
بندہ بن جاتا ہے:وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے
والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل
عمران : 146 )
اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami