محمد
مزمل (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
قرآن پاک نے ہمیں بہت سی تعلیمات سے تربیت
فرمائی ہے اسی میں ہمیں صبر کے متعلق بھی بہت سی تعلیمات تربیت فرمائی ہے جب بھی
ہمیں کوئی مشکل پیش آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ
قرآن پاک بھی ہم یہی سکھاتا ہے کہ جب بھی ہمیں کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی دل
دکھائے یا کوئی بات بری لگ گئی یا کوئی بھی آزمائش آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے۔ آئیے
اسی کے متعلق قرآن پاک سے پانچ آیات مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔
(1)وَ
اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ
خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی
ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے۔ (پ11،
یونس:109)
تفسیر صراط الجنان : وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ:اور
اس کی پیروی کرو جو آپ کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے۔ یعنی
اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور
آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں
حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ
فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (پ
11 ، یونس ، آیت 109 ، ص 387 ، صراط الجنان )
(2)سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)
ترجمہ
کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم
نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)
تفسیر
صراط الجنان:اور ان کے پاس فرشتے روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللہ
تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں
گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور
اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ : 13 ، الرعد ، آیت : 24 ، ص: 113 ،
صراط الجنان )
(3)الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں
نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان:
اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا:جنہوں نے صبر کیا ۔ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے
اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا
حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی
کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا اور وہ
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے
اس پر راضی ہیں اور مخلوق سے رشتہ منقطع کرکے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک
کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے۔ (پ
: 14، س: النحل ، آیت: 42 ، ص :318 ، صراط الجنان )
(4) وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-
ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
تفسیر
صراط الجنان: وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ
اَىٕمَّةً: اور
ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے۔ یعنی
جب بنی اسرائیل نے اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر صبر کیا
تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو خدا
عَزَّوَجَلَّ کی طاعت ، اس کی فرمانبرداری ، اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی شریعت کی
پیروی اورتورات کے اَحکام کی تعمیل کے بارے میں بتاتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ یہ امام بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام
تھے یا انبیاء ِکرام علیہ السلام کی پیروی کرنے والے۔ (پ: 21 ، س: السجدہ ،آیت: 24 ، ص:545 ،صراط
الجنان )
(5)فَاصْبِرْ
اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا
یُوْقِنُوْنَ۠(۶۰)
ترجمۂ
کنز الایمان: تو صبر کرو بے شک الله کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین
نہیں رکھتے۔ (پ21،
الروم:60)
تفسیر
صراط الجنان: كَذٰلِكَ: اسی
طرح۔ یعنی جس طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی
اسی طرح ان جاہلوں کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے جن کے بارے میں
جانتا ہے کہ وہ گمراہی اختیار کریں گے اور حق والوں کو باطل پر بتائیں گے۔ (پ:
21 ، س: الروم ، آیت: 60 ، ص: 469 ، صراط الجنان )
جیسا کہ ہم نے قرآن پاک سے صبر کے بارے میں
سنا اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملا کہ ہم پرجتنی بھی آزمائش اور مصیبتیں آئیں تو ہمیں صبر کرنا چاہیے ۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami