اسداللہ
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
دین
اسلام ایک احسن دین ہے جو ہمیں عبادات و عشق مصطفی کے ساتھ ساتھ اعلی اور عمدہ
اوصاف اپنانے کا بھی درس دیتا ہے انہی میں سے ایک وصف صبر بھی ہے صبر کا بیان قرآن
پاک میں متعدد جگہ ہوا ہے آئیے ہم بھی قرآن پاک کی روشنی میں صبر کا بیان پڑھنے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں :
(1) اللہ پاک کی معیت: صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ
پاک کی رحمت اور معیت ہوتی ہے جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(2) بشارت سنادو: اللہ پاک کی رضا کے لیے صبر
کرنے والوں کے لیے خاص خوشخبری ہے جیسے کہ قرآن پاک میں آیا ہے: وَ
بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر
والوں کو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
(3)
وصف مومن : صبر
کرنا اہل جنت مومنین کے اوصاف میں سے ہے جن کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا:
اَلصّٰبِرِیْنَ وَ
الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے
پہرسے معافی مانگنے والے(ہیں)۔ (پ3،آل
عمران، 17)
(4)
اللہ پاک کا محبوب: مصیبت اور آزمائش پر صبر کرنے والا انسان اللہ پاک کا
محبوب بندہ ہوتا ہے: وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز الایمان : اور اللہ صبر کرنے
والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
(5)
اہم کام : تکالیف
کو برداشت کرنا اور صبر کرنا یہ اہم امور میں سے ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد
ہوتا ہے: اِنْ
تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶) ترجمۂ
کنز الایمان: اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل عمران: 186)
اللہ
پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں آزمائش اور مصیبت پر صبر کا دامن اختیار کرنے
کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami