ابو القاسم عبد الکریم ھوازن قشیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی کتاب رسالہ قشیریہ میں فرماتے ہیں کہ صبر کے کئی قسمیں ہیں:

(1) بندے کا ان کاموں پر صبر جو اس کے اختیار میں ہیں

(2) ان کاموں پر صبر جو اس کے اختیار میں نہیں اور اختیار والے کاموں پر صبر کی دو قسمیں ہیں: (1) اس کام پر صبر جس کے کرنے کا اللہ عزوجل نے حکم دیا (2) اس کام پر صبر جس سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ۔ہے ۔

ان امور پر سبق جن میں بندے کا اختیار نہیں ، اس کی مثال یہ ہے کہ انسان پر جو مصیبت اللہ کی طرف سے آجائے اسے برداشت کرنے میں صبر کرے :

(1)اچھے کام اور صبر کرنے والوں کے لیے ثواب: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمۂ کنز الایمان : مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ (پ12،ہود: 11)

تفسیرِ صراط الجنان: آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے ۔ (پارہ 12 سورۃ ھود آیت نمبر 11)

(2) بھروسہ:الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

تفسیر صراط الجنان: یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے ۔ (پارہ 16 سورۃ النحل آیت نمبر 42)

(3) سزا دو: وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

تفسیر صراط الجنان:جنگ ِاُحد میں کفار نے مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی کرکے اُن کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا ، اُن کے پیٹ چاک کئے اور ان کے اعضاء کاٹے تھے ، ان شہداء میں حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے تاجدارِ رسالت نے جب انہیں دیکھا تو آپ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جائے گا اور ستر کا یہی حال کیا جائے گا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توحضورِ اقدس نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیا۔ یاد رہے کہ مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی کی ہَیئت کو تبدیل کرنا شریعت میں حرام ہے۔ (پارہ 16 سورۃ النحل آیت نمبر 126)

(4) ہرگز نہیں ٹھہریں گے: قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا(۶۷) وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا(۶۸)ترجمۂ کنز الایمان:کہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ اور اس بات پر کیوں کر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں۔ (پ15، الکھف:67، 68)

تفسیر صراط الجنان: حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَ علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَ علیہ السلام نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوکچھ ناپسندیدہ اور ممنوع کام دیکھنا پڑیں گے اور انبیاءِ کرام علیہ السلام سے ممکن ہی نہیں کہ وہ ممنوع کام دیکھ کر صبر کرسکیں ۔ (پارہ 18 سورۃ الکہف آیت نمبر 67-68)

(5)میری اور آپ کی جدائی : قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَۚ-سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا(۷۸) ترجمۂ کنز الایمان:کہا یہ میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (بھید)بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔ (پ15، الکھف:78)

تفسیر صراط الجنان: حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔ (پارہ 18 سورۃ الکہف آیت نمبر 78)

اللہ پاک ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین