محمد
منیب الرحمن عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینۃ اپر مال روڈ لاہور ، پاکستان)
صبر کا
لغوی اور اصطلاحی معنی: صبر کے لغوی معنی
ہیں رکنا، برداشت کرنا، اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنا۔ جیسا کہ تفسیر الجلالین پارہ نمبر 1 آیت نمبر 45
کی تفسیرمیں ہے : بِالصَّبْرِ اَلْحَبْسُ
لِلنَّفْسِ عَلٰى مَا تََكْرَہٗ صبر سے
مراد نفس کو روکنا خواہشات سے ۔
لسان
العرب (ابنِ منظور) ابنِ منظور لکھتے ہیں: الصَّبْرُ: الحَبْسُ والكَفُّ یعنی صبر کا معنی ہے روکنا اور باز رکھنا۔
جیسا
کہ ہم صبر کا لغوی اور اصطلاحی معنی معلوم کرچکے ہیں ۔ تو
اب ہم چلتے ہیں قرآن مجید کی طرف کہ آخر قرآن صبر کے بارے میں کیا ارشاد فرماتا ہے
البتہ یہ یاد رکھے کہ قرآن میں صبر کا ذکر کثرت سے آیا ہے مگر ہم یہاں ان میں سے چند کو ذکر کریں گے
قرآن
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیت
میں مومنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد حاصل کریں،
کیونکہ ایک مسلمان کی کامیابی انہی دو چیزوں صبر
اور ذکراللہ (نماز) پر قائم ہے۔
صبر سے
مدد لینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان عبادت میں ثابت قدم رہے، گناہوں سے بچے، اور اپنی
خواہشات پر قابو رکھے۔
جبکہ نماز تمام عبادات کی جڑ ہے، جو انسان کو صبر کی قوت اور روحانی سکون عطا کرتی
ہے۔
ان
دونوں (صبر و نماز) کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا :باطنی اعمال میں سب سے مشکل کام صبر ہے، اور ظاہری اعمال
میں سب سے زیادہ محنت طلب عبادت نماز ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک اللہ
صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔یعنی وہ ان کی مدد فرماتا ہے، ان کی تکالیف
آسان کرتا ہے، اور ان کے لیے راحت کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ
الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ
الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور
ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی
سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
زندگی
میں انسان کو قدم قدم پر آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے ۔کبھی بیماری سے، کبھی مال و
جان کے نقصان سے، کبھی خوف، دشمنی، یا فتنوں سے۔
یہ سب آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی آزما ئش ہوتی ہیں
تاکہ فرمانبردار اور نافرمان، مخلص اور دعویدار میں فرق ظاہر ہو۔
انبیائے
کرام علیہم السلام کی زندگیاں صبر کی روشن مثالیں ہیں:
حضرت
نوح علیہ السلام کی قوم کی نافرمانی۔
حضرت
ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں ڈالا جانا اور بیٹے کی قربانی۔
حضرت ایوب
علیہ السلام کی بیماری اور مال و اولاد کا زوال۔
حضرت
موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام پر آزمائشیں ۔
یہ سب
صبر و استقامت کے نمونے ہیں۔ اسی لیے ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ جب مصیبت
آئے تو صبر کرے، جزع و فزع نہ کرے اور اللہ کی رضا پر راضی رہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ
فرماتے ہیں:
جب
انسان پر تکلیف آتی ہے تو وہ خود بخود
اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
البتہ اعلیٰ درجے کے لوگ وہ ہیں جو تکلیف کو بھی خوشی کی طرح قبول کرتے ہیں۔
عام مسلمان کم از کم اتنا کرے کہ صبر و استقلال اختیار کرے، رونا پیٹنا نہ کرے،
ورنہ مصیبت بھی باقی رہے گی اور ثواب بھی جاتا رہے گا
یوں دوہرا نقصان ہوگا۔ (بہار
شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، 1 / 799)
اسی
مضمون کے لحاظ سے آپکے سامنے چند احادیث پیش کرتا ہوں
حضرت
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مسلمان مرد و
عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ
سے اس حال میں ملتا ہےکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (ترمذی ، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر
علی البلاء، 4 / 179، الحدیث:
2407)
حضرت
جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت
کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے
،کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ (ترمذی ، کتاب الزہد، 59-باب، 4 / 180، الحدیث:
2410)
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور صبر پر استقامت اور اسکا اجر
عطا فرمائیں ۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
Dawateislami