صبر ایک
ایسی اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو انسان کو زندگی کے ہر میدان میں مضبوط، پُر سکون اور
کامیاب بناتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کو ایمان کی بنیاد اور کامیابی
کی کنجی قرار دیا ہے۔ انسانی زندگی خوشی اور غم، راحت اور مصیبت،
آسانی اور سختی کا مجموعہ ہے۔ ان
سب میں ثابت قدم رہنا ہی اصل صبر ہے۔
قرآن میں
صبر کی اہمیت: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی
تاکید فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ کنزالایمان ! اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو۔ (سورۃ آل عمران: 200)
اس آیت
میں صبر کو فلاح یعنی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ جو
شخص صبر کو اپناتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔
اللہ کی معیت صبر کرنے والوں کے ساتھ: قرآنِ
کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
یہ آیت
صبر کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی بشارت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، یعنی ان کی مدد، رہنمائی اور نصرت ان کے شاملِ
حال رہتی ہے۔
صبر پر اجر و انعام: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یہ آیت
صبر کرنے والوں کے اجر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرے اعمال کا بدلہ حساب کے مطابق ملے گا، لیکن صبر کا بدلہ اللہ تعالیٰ
اپنی بے پایاں رحمت کے مطابق عطا فرمائے گا۔
مصیبت کے وقت صبر کی تعلیم: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور
پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ دنیا کی مصیبتیں ایمان والوں کے لیے آزمائش ہیں اور صبر کرنے والے
وہ ہیں جو ان حالات میں اللہ سے راضی رہتے ہیں ۔
صبر کرنے والوں کی پہچان: قرآنِ
کریم نے صبر کرنے والوں کا طرزِ عمل یوں بیان کیا ہے: الَّذِیْنَ اِذَاۤ
اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی
ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
یہ
جملہ مؤمن کے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے، جس میں یقین، رضا اور تسلیم کا جذبہ پوشیدہ
ہے۔ یہی
رویہ مومن کو غم سے سکون اور مصیبت میں صبر عطا کرتا ہے۔
انبیائے کرام کی سیرت میں صبر: قرآن نے انبیاء علیہم السلام کے صبر کو مثال بنا کر پیش کیا: فَاصْبِرْ
كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم
صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
حضرت ایوب
علیہ السلام نے سخت بیماری کے باوجود صبر کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و ظلم
کے باوجود شکایت نہ کی، اور نبی اکرم ﷺ نے طائف کی اذیتیں برداشت کر کے بھی فرمایا:
اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ نہیں جانتے۔ یہی
صبر کا اعلیٰ مقام ہے۔
صبر، نماز اور دعا کا تعلق:قرآن میں ارشاد ہے: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے
مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
یہ آیت
ہمیں سکھ آتی ہے کہ مصیبت کے وقت مومن کا سہارا دو چیزیں ہیں صبر اور نماز۔ صبر دل کو مضبوط کرتا ہے اور نماز روح کو سکون بخشتی ہے۔
صبر کا حقیقی مفہوم: صبر کا مطلب صرف مصیبت پر برداشت نہیں بلکہ
ہر حالت میں اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنا ہے۔
گناہ
سے رکنے میں صبر
عبادت
پر قائم رہنے میں صبر
تقدیر
پر راضی رہنے میں صبر
یہ تینوں
پہلو قرآن کے صبر کے جامع مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔
صبر ایک
ایسی روشنی ہے جو غم کے اندھیروں میں انسان کو امید دیتی ہے۔
قرآنِ
کریم نے ہمیں سکھایا کہ صبر محض برداشت نہیں بلکہ ایمان کی علامت، اللہ کی رضا کا
راستہ، اور کامیابی کا زینہ ہے۔ جو
صبر کرتا ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی بندوں کو پسند
فرماتا ہے۔ وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ
کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
اے
اللہ! ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو ہر حال میں صبر کرنے والے، شکر گزار اور تیری
رضا پر راضی رہنے والے ہوں۔ آمین۔
Dawateislami