قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر کو ایمان کی
علامت اور نجات کی کنجی قرار دیا ہے۔ مومن کی زندگی خوشی اور غم، راحت اور تکلیف کے درمیان گزرتی ہے۔ ایسے
حالات میں صبر ہی وہ صفت ہے جو بندے کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی
رحمتوں کا مستحق بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ
اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو
بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
یہ آیت
مبارکہ صبر کی اہمیت کو واضح کر رہی ہے کہ صبر کرنے والا تنہا نہیں ہوتا بلکہ اللہ
تعالیٰ اس کا ساتھی ہوتا ہے۔
ایک
اور مقام پر فرمایا:اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ
حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ
کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
سے ہمیں معلوم ہو کہ جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے
عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت
کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور
ثواب دیا جائے گا۔ (
ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے
دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے
(اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں
تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں
گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے(
تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن
ابن عباس، 12 / 141، الحدیث:
12829)
حضرت
علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی
کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے
حساب دیا جائے گا۔ (
خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)
حضرت سیدنا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان کسی
مصیبت میں مبتلا ہوا اور اس نے کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ
اَجِرْنِیۡ فِیۡ مُصِیْبَتِیۡ وَ اخْلُفْ لِیۡ خَیْرًا مِّنْهَا، تو
اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر عطا فرماتا ہے اور اس سے بہتر چیز اس کو دیتا
ہے۔ (مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ ، حدیث: 918)
صبر کا
ایک حسین نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی ہے۔ برسوں تک بیماری اور سخت آزمائش کے باوجود انہوں نے صبر اور شکر کے ساتھ
اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر یوں ہے:اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ
الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان: بے شک ہم نے اسے صبر
کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ صبر بندے کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کتنا بلند مرتبہ عطا کرتا
ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار
ہوں گے۔ ( ابن
عساکر، ذکر من اسمہ: ایوب، ایوب نبیّ اللہ ، 10 / 66)
معلوم
ہو کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے
قریب کر دیتی ہے۔ صبر کرنے والے اللہ کے خاص محبوب بندے ہیں اور
ان کے لیے بے حساب اجر اور اللہ تعالیٰ کی معیت کی بشارت ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں صبر کو اختیار کرے تاکہ دنیا و
آخرت کی کامیابیاں اس کا مقدر بن جائیں۔
Dawateislami