مُحمّد
یاسر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
صبر کی
تعریف: صبر کا
مطلب ہے مشکلات اور مصائب کے وقت ثابت قدم رہنا، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا یہ
ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سکون اور اطمینان دیتی ہے۔
صبر کی
اہمیت: صبر کی
اہمیت کو قرآن و حدیث میں بہت زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللہ
وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(۱۲۷) ترجمۂ
کنز العرفان:اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ
کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو ۔ (پ14، النحل:127)
اسی
طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ
مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمۂ کنز العرفان: ان کو ان کا اجر دُگنا دیا جائے گاکیونکہ
انہوں نے صبر کیا۔ (پ 20،
القصص: 54)
ان
لوگوں کو دگنا اجر دیاجائے گا کیونکہ وہ پہلی کتاب پر بھی ایمان لائے اور قرآ نِ
پاک پر بھی اوریہ ان کے اس صبر کا بدلہ ہے جو انہوں نے اپنے دین پر اور مشرکین کی
طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر کیا۔
ایک
اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ
حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی
کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
صبر
کرنے کے بہت سے فائدے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
صبر
کرنے سے انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سکون اور اطمینان ملتا ہے۔
صبر
کرنے سے انسان مشکلات کے وقت ثابت قدم رہنے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔
صبر کرنے سے انسان اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی
طاقت حاصل کرتا ہے۔
صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دگنا اجر دیتا ہے۔
صبر کرنے والوں کو جنت کی نعمتوں سے نوازا جائے
گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں ریشمی لباس پہنایا
جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں تختوں پر تکیہ لگانے
کی نعمت ملے گی۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں گرمی اور سردی کی تکلیف
سے بچایا جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں درختوں کے سائے کی
نعمت ملے گی۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں گچھوں کی فراوانی ملے
گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائے اور
ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے کی طاقت دے۔ آمین۔
Dawateislami