’’صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔

بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا۔ (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ44، 45)

زندگی میں خوشی اور دکھ، آسانی اور مشکل، کامیابی اور ناکامی یہ سب انسان کے سفر کا حصہ ہیں۔ ان حالات میں جو چیز انسان کو مضبوط، پرعزم اور متوازن رکھتی ہے، وہ صبر ہے۔ صبر انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اسلام نے صبر کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت، مدد اور عظیم اجر کی بشارتیں دی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے صبر کو کامیابی اور سکونِ زندگی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

اب ہم قرآن پاک سے چند آیات جو صبر سے متعلق ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں:

(1) بنی اسرائیل کا صبر اور اس وجہ سے ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْاؕ-وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ(۱۳۷) ترجمہ کنز العرفان : اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔ (پ9، الاعراف:137)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس سر زمین میں اللہ تعالیٰ نے نہروں ، درختوں ، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے برکت رکھی تھی اس طرح بنی اسرائیل پر ان کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا۔

(2) جب بندہ صبر کرتا ہے تو اس کی طاقت دگنی ہوج آتی ہے اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِؕ-اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ(۶۵) اَلْ۔ ٰٔنَ خَفَّفَ اللہ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًاؕ-فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۶۶)

ترجمہ کنز العرفان : اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے علم ہے کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تود و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اوراللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 65، 66)

(3) ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ میں بخشا جاؤں۔ تو اللہ تعالی نے اس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

(4) امتحان دنیاوی بھی ہوتے ہیں اخروی بھی حقیقی کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہو جائے۔ صبر بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو آخرت میں اچھے انجام کے لیے مددگار ہوتی ہیں ۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲) ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔ (پ13، الرعد: 22)

(5) رضائے الہٰی کے لئے صبر کرنے کی فضیلت:اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: - وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155، 156)

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴) ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)

(6) اللہ پاک کے لئے ہجرت کرنا اور اپنا وطن چھوڑنا۔ تکلیفوں پر صبر کرنا اس کی جزاء بھی بڑی ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا ۔

(7) ایک اور آیت میں بھی اس بات کا ذکر ہے: ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۰) ترجمہ کنز العرفان : پھر بیشک تمہارا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تکلیفیں دئیے جانے کے بعد اپنے گھر بار چھوڑے پھر انہوں نے جہاد کیا اورصبر کیا بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ14،النحل: 110)

ہم نے چند آیات کا جائزہ لیا جس سے ہمیں پتا چلا کہ صابرین کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ آخرت میں اللہ پاک ان کو اپنے انعامات سے نوازتا ہے، اس کی طاقت دگنی ہوج آتی ہے ۔

ہمیں چاہیے کہ صبر کے دامن کو تھام کے رکھیں تاکہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والے ثواب اور انعامات کے حق دار ہو سکیں۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین