صبر کے معنی ہیں روکنا، اصطلاح میں کامیابی کی امید سے مصیبت پر بے قرار نہ ہونے کو صبر کہتے ہیں۔ (تفسیر نعیمی جلد 1 ص299) اللہ پاک اپنے بندوں کو کبھی راحتیں عطا فرماتا ہے اور کبھی آزمائشوں کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کون بندہ صبر و شکر کے راستے پر قائم رہتا ہے صبر بھلائیوں کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ،صبر مومن کا ہتھیار اور نصف ایمان ہے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی اہمیت، صبر کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آئیے چند آیات پڑھیے:

(1) اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : اللہ پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے۔ فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے(صراط الجنان 245/1 ) حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 /169 )

(1) صبر کرنے والوں کے لیے انعام الٰہی :- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155تا157)

پہلی آیت میں مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور (پھر) یہ بتایاگیا کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (جلالین، البقرۃ، تحت الایۃ: 156، ص22 ) سبحان اللہ صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت و رحمت ہے۔ (صراط الجنان 253/1 ) صبر کی ایک بہت عمدہ صورت یہ ہے کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر اندازہ ہی نہ ہو کہ یہ مصیبت میں ہے۔ (تفسیر تعلیم القرآن 64/1)

(3) صابرین کے لیے بے حساب اجر : اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے (اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن ابن عباس، 12 / 141، الحدیث: 12829)

(4) آقائے دو جہاں ﷺ کو صبر کا حکم : صبر ایسا پیارا عمل ہے کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو متعدد مقامات میں صبر کا حکم دیا چنانچہ فرمایا: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)

ایک جگہ ارشاد فرمایا:فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) ترجمۂ کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29، المعارج:5)

(5) صبر کرنا سنت انبیاء ہے : اللہ نے پیارے آقا ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)

اس آیت میں مبلغین کیلئے بھی تسلی ہے کہ اگر انہیں راہِ تبلیغ میں مشقتیں پیش آئیں تو وہ انبیاء علیہ السلام کی تکالیف کو یاد کرکے صبر اختیار کریں۔ (صراط الجنان 97/3)

(6) آدمی بڑا بے صبرا حریص ہے: اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ (۱۹)اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ (۲۰)وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ (۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔ جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والاہوجاتا ہے۔ اور جب اسے بھلائی پہنچے تو بہت روک رکھنے والاہوجاتا ہے۔ (پ29،المعارج19تا21)

یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس پر صبر نہیں کرتا اور جب مال ملتا ہے تو اس کو خرچ نہیں کرتا۔ (تفسیر خزائن العرفان،ص1054)

آخر میں وہ دعا کرتے ہیں جو جادوگروں نے موسی علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد کی تھی رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ (پ9،الاعراف: 126)

اللہ ہمیں صبر جمیل عطا فرمائے اور ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ نبی الامین ﷺ