محمد عبداللہ (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
انسان
کی زندگی خوشی اور غم، راحت اور تکلیف، کامیابی اور ناکامی کا مجموعہ ہے۔ ہر
انسان کو کسی نہ کسی مرحلے پر آزمائشوں ،
مصیبتوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی
صورتِ حال میں جس وصف کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، وہ صبر ہے۔ صبر نہ صرف ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے بلکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے
صبر کرنے والوں کو خاص مقام عطا کیا ہے۔ قرآن ہمیں نہ صرف صبر کا درس دینے کے ساتھ ساتھ اس پر ملنے والے انعامات و درجات کا بھی بیان کرتا ہے
:
صبر کا
معنیٰ: صبر کا
لغوی مطلب ہے روکنا، صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل
اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور
شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)
بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات
اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4 / 82)
صبر کے فضائل: قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے
اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے کچھ
فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(1)
صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، 12 / 141، الحدیث: 12829)
(2)
صبر آدھا ایمان ہے۔
(مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، 3 / 237، الحدیث: 3718)
(3)
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلۃ الصبر، 4 / 76)
قرآن
پاک میں صبر کی اہمیت:
(1) صبر
کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے
ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
(2) صبر
اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153،
1/ 169)
اللہ
تعالیٰ نے مشکلات سے نکلنے کا جو نسخہ دیا ہے، وہ صبر اور نماز ہے۔ یہ
دو اعمال مومن کی ڈھال ہیں۔
صبر ایک
ایسا جوہر ہے جو انسان کو نہ صرف دنیاوی مشکلات سے نجات دیتا ہے بلکہ اسے اللہ کا
محبوب بندہ بنا دیتا ہے۔ قرآن مجید ہمیں بار بار صبر کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ صبر ہی وہ کنجی ہے جو
ہر بند دروازے کو کھول سکتی ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں صبر کو اپنائیں، خاص طور پر آزمائش کے وقت، اور اللہ کی
رضا پر راضی رہیں، کیونکہ کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے جو صبر کے دامن کو تھامے
رکھتے ہیں۔
Dawateislami