عبدالمجید
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ کنز الایمان رائیونڈ ضلع لاہور ، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے
جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک میں صبر کو بہت بلند مقام دیا گیا ہے۔ صبر کا مطلب ہے: مشکلات، تکالیف، آزمائشوں ، اور ناپسندیدہ حالات میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا، شکوہ
شکایت نہ کرنا، اور ثابت قدمی اختیار کرنا۔
قرآن مجید میں صبر کا حکم : اللہ
تعالیٰ نے متعدد مقامات پر صبر کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے اور ان کے لیے عظیم
انعامات کا وعدہ کیا ہے۔
(1) سورۃ البقرہ، آیت 15: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
یہ آیت
ہمیں بت آتی ہے کہ مصیبت میں سب سے پہلا سہارا صبر ہونا چاہیے، اور صبر کے ساتھ
اللہ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے۔
(2) سورۃ الزمر، آیت 10: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
میں صبر کا انعام بیان کیا گیا ہے جو کہ بے حساب ہے۔ یعنی
اللہ تعالیٰ صابرین کو ان کے صبر کا ایسا بدلہ دے گا جس کی کوئی حد نہیں۔
(3) سورۃ البقرہ، آیت 155-15(7) وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ
الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ
الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) -الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)
ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر
اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے
والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں
اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155تا157)
صبر کی اقسام : علمائے کرام نے صبر کی تین
اقسام بیان کی ہیں:
1 طاعت پر صبر ۔ عبادات اور نیکیوں پر ثابت قدم رہنا۔
2 معصیت سے صبر۔ گناہوں سے بچنا اور نفس کو قابو میں رکھنا۔
3 مصیبت پر صبر۔ تکلیف دہ حالات میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا۔
صبر کرنے والوں کی صفات
وہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔
شکوہ شکایت نہیں کرتے۔
آزمائشوں میں مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔
اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔
انبیائے
کرام صبر کا عملی نمونہ : حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری اور مصیبت
میں مبتلا کیا گیا، لیکن انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ قرآن میں ان کا ذکر بطور صابر آیا ہے: سورۃ ص، آیت 4(4) اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ
الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان: بے شک ہم نے اسے صبر
کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)
صبر وہ
عظیم صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ قرآن پاک میں صبر کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے اور صبر کرنے والوں کے
لیے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر صبر کو اپنائیں، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔
Dawateislami