محمد
انس عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
انسان
اپنی زندگی میں دیکھتا رہتا ہے کہ زندگی مکمل
آزمائشوں سے خالی ہونا بہت مشکل ہے
ہر انسان کے ساتھ عموماً پریشانیاں دکھ تکالیف و مصیبتیں آتی ہی رہتی ہیں مگر اب
ان آزمائشوں کا رونا رویا جائے ؟ دوسروں کے سامنے اظہار کیا
جائے، گھر چھوڑ دیا جائے، اولاد کو بے آسرا کر دیا جائے ، بیوی کو مار پیٹ کر طلاقیں
دے دی جائیں ، خود کشی کر لی جائے یا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں فریاد کی جائے،
قرآن حمید ہمیں اس بارے میں کیا سوچ اور عمل وجزا دیتا ہے ، آئیے ملاحظ کرتے ہیں:
(1) آزمائشوں پر صبر کر کے اللہ عزوجل سے مدد مانگنی چاہیے اور پھر مایوس بھی نہیں ہونا
چا ہیئے کیونکہ رب عزوجل فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(2) کسی
نے ایذا دی تکلیف پہنچادی، چار باتیں سنا دیں تو ان پر خاموشی کے ساتھ صبر کر لینا
چھوٹے لوگوں اور ڈرنے والے لوگوں کا کام نہیں بلکہ یہ تو مضبوط اور ہمت والوں کا
کام ہے، جیسا کہ وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ
الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو
یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ 25،الشوریٰ: 43)
(3)
صبر کرنے پر جنت ، جی ہاں، صبر کرنے پر وہ جنت ملے گی کہ جس میں۔ کوئی مشکل اور کوئی آزمائش وغیرہ نہیں جہاں آرام و سکون والی ہمیشہ کی زندگی
ہے۔ قرآن پاک میں ہے : وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)
ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
(4) آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر کرونے والوں کو اللہ عزوجل نے ناکاموں کی فہرست میں نہیں
بلکہ کامیاب لوگوں کی فہرست میں داخل فرمایا ہے: اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے
صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
(5)وَ
لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ
اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے
پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر
کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
جو بندہ صبر کرتا ہے پھر الله عز وجل اسے بے یارو
مدد گار اور مشکلوں میں پھنسا ہوا نہیں چھوڑتا بلکہ اللہ عزو جل بھی اس کی مدد
کرتا ہے۔ صبر کرنے والوں کے لیے بخشش کی بھی بشارت و
خوشخبری ہے۔
Dawateislami