قرآن مجید میں صبر(بردباری اور ثابت قدمی)کو خلق عظیم اور مؤمن کی اہم صفت قرار دیا گیا ہے۔ صبر کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر آیا ہے۔ اور اسے ایمان تقوٰی،شکر اور یقین کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اللہ پاک نے صبر کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں عظیم انعامات کا وعدہ فرمایا ہے :

(1)صبر کرنے والوں کو اللہ کا ساتھ حاصل ہوتا: قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)

)2)صبر کے بدلے جنت اور انعامات: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)

اس آیت اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور دنیا کی طرح وہا ں انہیں گرمی یا سردی کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور جنت کے درختوں کے گُچھے جھکا کر نیچے کردئیے گئے ہوں گے تاکہ وہ کھڑے ،بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں باآسانی گچھے لے سکیں اور جیسے چاہے کھا سکیں ۔ (خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 12-14، 4 / 340)

(3)صبر کرنے والوں کا اجر بے حساب: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

تفسیر صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ (ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

(4)انبیاء کرام کی صبر کی مثال: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)

قرآن مجید میں اللہ پاک نےبارہا صبر کرنے والوں کو نہ صرف اللہ کی قربت کی خوشخبری دی گئی ہے بلکہ انہیں ہدایت، رحمت اور جنت کے وعدے سے بھی نوازا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آزمائشوں میں مضبوطی اور عبادات میں پابندی کریں تاکہ ہم اللہ پاک کے ان بندوں میں شمار ہو سکیں جن کے بارے میں فرمایا گیا: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین