محمد
شعیب عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
انسانی
زندگی مختلف آزمائشوں کا مجموعہ ہے کبھی بھوک کی آزمائش تو کبھی بیماری
کی آزمائش کبھی مالی نقصان کی آزمائش تو کبھی بدنی آزمائش ان سب آزمائشوں سے بچ جانے کا نام کامیابی نہیں بلکہ کامیابی اس کا نام ہے کہ ان تمام آزمائشوں پر صبر کیا جائے صبر پر ملنے والے انعام کی طرف نظر کرتے ہوئے ان آزمائشوں میں نہ گبھرائے۔ جب
ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو صبر کے متعلق کئی آیات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔
صبر کی
تعریف: صبر کی
لغوی واصطلاحی تعریف یہ ہے: برداشت کرنا اور اللہ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر واویلا نہ کرنا۔ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان نیکیوں کا حریص ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ہر آزمائش پر صبر کریں اور اللہ کی طرف سے
ملنے والے اجر پر خوش ہوں۔ صبر کرنےپر کیااجر ملتاہے قرآن اس بارے ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔ قرآن میں مختلف مقامات پر صبر کا بیان ہےجن میں چند مقامات یہ ہیں :
(1) وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور
بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1،
البقرۃ:45)
اس آیت
مقدسہ میں صبر کے ذریعے مدد طلب کرنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔
(2) وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ
کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
اس آیت
مبارک میں صبر کو ہمت والا کام کہا گیا ہے لہذا جو لوگ صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں
وہ باہمت ہیں۔ زمانے کے دکھ اس کو کبھی نہیں تھکا سکتے۔
(3) وَ
جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
اب اس
آیت میں صبر کرنے والوں کے دواجر بیان ہوئے ہیں کہ ایک تو ان کو جنت ملے گی اور
دوسرا ریشمی لباس کا جوڑا۔ ان
دونوں انعامات پر صبر کرنے والا بہت خوش ہوتا ہے۔
(4) اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
آیت کے اس مبارک حصہ میں صابر کے اس اجر کا بیان
ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی وہ اجر یہ ہے کہ صبر کرنے والے کو اللہ تعالی کی معیت
نصیب ہوتی ہے اور جس کو اللہ کا ساتھ نصیب ہو جائے اسے دنیا کا کوئی غم نہیں رہتا۔
(5) وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ
فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ
کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور
تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
مبارک
آیت کے اس حصہ میں یہ اجر بیان ہوا ہے کہ صبر کرنے والوں کی مدد خود خدا تعالیٰ
فرماتاہے اور جس کی مدد خدا فرمائے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
ان آیات
کے علاوہ کئی اور آیات بھی ہیں جن میں صبر کا بیان ہے اور کئی ایسی احادیث بھی ہیں
جن میں صبر کے اجروثواب کو بیان کیا گیا ہے۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ پیارے نبی
رحمت اللعالمین ﷺ کے صدقے اس عظیم الشان صفت کواپنانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
Dawateislami