قرآن وحدیث میں صبر کے کثیر فضائل بیان کیے گئے ہیں سب سے پہلے ہم صبر کی تعریف کرتے ہیں پھر اسکے فضائل کو بیان کرتے ہیں

صبر کی تعریف:الصبر حبس النفس علی ما یقتضیہ العقل والشرع أو عما یقتضیان حبسھا عنہ صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب ،کتاب الصاد ،ص 273)

صبر کی تعریف سے پتہ چلا کہ نفسانی خواہشات سے رک جانا صبر ہے بندہ اگر اس میں کامیاب ہو جائے تو کئی گناہوں سے بچ سکتا ہے کیونکہ اکثر گناہ نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں لہذا بندہ اگر نفس کی خواہشات سے بچ جائے اور صبر کر لے تو عبادت میں بھی اس کا دل لگے گا یوں بندہ خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسکے احکامات کو بجالا سکتا ہے ۔

(1) صبر کے ذریعے مدد مانگنا: صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے ساتھ صبر کا ذکر فرمایا نیز صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

(2) صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا: قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللہ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ :اے میرے مومن بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے بھلائی کی، ان کے لیے اِس دنیا میں بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر :10)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔

(3)صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں : وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)

ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

(4) صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا: - وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر ضرور دیں گے۔ (پ14، النحل:96)

(5) اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین