ملک دلبر
(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی فراہم کرتا
ہے۔ قرآن مجید ، جو ہدایت کا سرچشمہ ہے، اس میں صبر کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ صبر کو مؤمن کی ایک بنیادی صفت قرار دیا گیا ہے، جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور تکالیف میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم میں صبر کا بارہا ذکر آیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل
کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ چند آیات پڑھیئے:
اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی خوب تعریف فرمائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمہ
کنزالایمان: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
ایک
اور مقام پر فرمایا گیا: وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمہ
کنزالایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
اللہ
تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں انعامات رکھے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی انبیاء کرام کا ذکر آیا ہے جو شدید آزمائشوں میں بھی صبر کرتے رہے، جیسے حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام،
اور حضرت یعقوب علیہ السلام۔
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23،
الزمر: 10)
صبر کے
فوائد:
صبر
انسان کو روحانی طور پر مضبوط بناتا ہے۔
صابر
شخص کو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔
آخرت میں صبر کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
صبر
مومن کی ڈھال ہے، جو اسے زندگی کے نشیب و فراز میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآن کا پیغام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہر حالت میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور
صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جو
شخص صبر کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی رضا حاصل کرنے والا بنتا ہے اور دنیا و آخرت
کی کامیابیاں سمیٹتا ہے۔
اللہ پاک
ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami