پیارے پیارے اسلامی  بھائیو! جہاں قرآن پاک ہمیں بہت سی تعلیمات سے نوازتا ہے وہی قرآن پاک ہمیں صبر کے بارے میں بھی حکم دیتا ہے۔ آئیے پہلے جانتے ہیں کہ صبر کہتے کسے ہیں۔

صبر کی تعریف: صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)

صبر کے بارے میں قرآن پاک کے کئی آیات مبارکہ ہیں ان میں سے پانچ آیات پیش کی جاتی ہیں۔

(1) صبر کرنے والا ہے: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

(2) بڑا بے صبرا: اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ (۱۹)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔ (پ29،المعارج19تا21)

(3) صبر اور نماز سے مدد: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1، البقرۃ:45)

(4) رب کے لیے صبر کرو: وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)

ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے رب کے لیے صبر کئے رہو۔ (پ29، المدثر:7)

(5) راہ خدا میں خرچ کرنے والے سے:

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)

ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)

ہمیں آنے والی مصیبتوں اور آزمائشیں پر صبر کرنا چاہیے، ہمیں ہر حال میں صبر کرنا چاہیے اور کسی کے سامنے اپنے دکھڑے نہیں سنانے چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین