محمد جمشید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
صبر
عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں روکنا برداشت کرنا، اور ثابت قدم رہنا۔
اصطلاح
شریعت میں صبر کی تعریف: صبر اس حالت کو
کہتے ہیں کہ انسان تکلیف مصیبت یا خواہش کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
اپنے نفس کو گناہ یا بے صبری سے روکے رکھے۔
(1)صبر
والوں کی فضیلت : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو۔ اس
سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے ۔
(2)صبر والے
راہ خدا میں خرچ کر تےہیں:اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ
الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے
پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر
صراط الجنان: متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر
ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)صبر
کا معنی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل
عمران: 200)
تفسیر
صراط الجنان: صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل
کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو
(4)صبر
سے دین پر غلبہ: وَ اتَّبِ۔ عْ مَا یُوْحٰۤى
اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر
وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے۔ (پ11،
یونس:109)
تفسیر
صراط الجنان: اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ
آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی
طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ
آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے۔
(5)صبر
پر ثواب: الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جنہوں
نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ
صَبَرُوْا:جنہوں
نے صبر کیا ۔ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے
اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا۔
اللہ کریم ہمیں
قرآن کریم پڑھ کر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami