میرے اسلامی بھائیو !جہاں اسلام کے مخالفین کی جانب سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہاں ہی کچھ ایسے بدبخت اور دھتکارے ہوئے لوگوں کی جانب سے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن پسے پردہ اسلام کے مخالفین کے اتحادی ہیں ان کے حوالے سے قرآن میں اللہ رب العالمین نےکیا وعید ارشاد فرمائی ہے اس پر ہم تھوڑی سی گفتگو کریں گے اور قرآن کی روشنی میں ان کی بدبختی کو ظاہر کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (پ1، البقرۃ، آیت 11)

فساد کو روکنے کے لیے قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ (پ8 ، الاعراف ،آیت 56)

لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد کی ایک ایسی صورت بیان کی گئی کہ جس میں وہ لوگ نیکیاں بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ فساد بھی مگر قرآن نے ان کے فساد کو ان کی نیکی پر زیادہ واضح کیا ارشاد قرآنی :

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (پ19،الشعراء،152)

قرآن کریم میں فساد پھیلانے والوں کی جہاں پر توبیخ کی گئی وہاں پر ان کی سزا کے بارے میں بھی اللہ پاک نے بیان فرمایا اور اس کی ممانعت صریح الفاظ سے فرمائی :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے ۔(پ6 ،سورۃالمائدۃ، آیت 33)

زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ذکر قرآن پاک میں جو آیا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فساد پھیلانا منافقین کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ چنانچہ فرمایا: وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے۔(پ2 ،سورۃ البقرۃ، آیت 205 )

آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔