ابو
معاویہ محمد شہریار عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
فساد فی
الارض ایک نہایت اہم موضوع ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں بگاڑ
اور خرابی پھیلانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد
ہوتا ہے:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد
فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی
رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (سورۃ الاعراف: 56)
اسی طرح
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ
الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ
کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے
اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ
البقرۃ: 205)
مزید قرآن
مجید میں ارشاد ہے:ظَهَرَ
الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ
لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر
ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے
بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔ ( سورۃ الروم: 41)
یعنی شرک
اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار
کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش
زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ
ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں
آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور
گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔ ( جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۳۴۴)
اسی طرح ایک
اور مقام پر فرمایا : وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا
نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ: 11،12)
قرآن مجید
نے فساد فی الارض کو نہایت سنگین جرم قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدۃ میں ارشاد
ہے:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد
برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں
سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا
(ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں
رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ المائدۃ:33)
مفسرین
فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد ایسا جرم ہے جو پورے معاشرے کے امن
کو تباہ کر دیتا ہے، اس لیے شریعت نے اس کے خاتمے کے لیے سخت احکام بیان فرمائے ہیں۔
خلاصہ یہ
کہ قرآن و تفاسیر کی روشنی میں فساد فی الارض کا مطلب ہر وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ
کے احکام کے خلاف ہو اور انسانوں کے لیے نقصان دہ ہو، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و
غارت اور دین سے دوری۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم زمین میں لوگوں کی اصلاح کریں،
عدل و انصاف کو فروغ دیں اور ہر قسم کے فساد سے بچیں، کیونکہ یہی کامیاب اور پرامن
معاشرے کی بنیاد ہے۔
Dawateislami