فساد فی الارض سے مراد زمین میں فساد کرنا ہے اور فساد یہ بری صفت ہے اور شیطانی صفت ہے جس سے ہر ایک کو بچنا ضروری ہے تاکہ شیطان کی پیروی سے بچا جا سکے شیطانی صفت سے موصوف ہونے سے بچا جا سکے زمین میں فساد کرنے والا اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور مفسد شخص کامیاب نہیں ہو پاتا ۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ (پارہ1،سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 30)

اس آیت مبارکہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ شخص کسی طرح خلافت کا حقدار نہیں ہے جو مفسد فی الارض یعنی زمین میں فساد پھیلانے والا ہو ۔لفظ خلیفہ سے کئی مدنی پھول لیے جا سکتے ہیں :

(1) گھر کا بڑا یعنی سربراہ اگر گھر میں فساد برپا کرنے والا ہے وہ گھر کا سربراہ بننے کا حقدار نہیں ۔

(2) جو قاضی شریعت کے موافق و مطابق فیصلہ نہ کرے اور شہر میں فساد برپا کرے وہ قاضی بننے کا حقدار نہیں۔

(3)اسی طرح جو بادشاہ یا سلطان اپنے ملک کی حفاظت نہ کرے اور لوگوں پر ظلم و ستم کر کے انکو انکا حق نہ دے اور فساد برپا کرے تو وہ بھی بادشاہت اور سلطان بننے کا مستحق نہ ہو گا۔

شریعت کی رو سے اگر لوگوں میں دیکھا جائے تو فساد کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل دو صورتیں بھی ہیں۔

(1)فسادفی العقائد:اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں میں ایسے عقائد کی ترویج واشاعت کرے جس کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں اور وہ سراسر اسلام کے خلاف اور جہالت پر مشتمل ہوں جیسے خدا تعالی کا جسمیت سے پاک ہونا ثابت ہے لیکن لوگوں میں یہ ظاہر کرنا کہ خدا تعالی بھی جسم والاہے جیسے ہم جسم والے ہیں اسی طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں ایسا کلام کرنا جس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی کا ثبوت ہو حالانکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان تو وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔(سورۃ النساء آیت نمبر 95)

اس کی شان میں گستاخی کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے جس کی پیروی کا حکم دیا جا رہا ہے اسی طرح محبت اہل بیت کا دعوی کر کے اتنا محبت میں غلو کرنا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے حق میں گستاخی ہو جائے ایسے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و شان کا اقرار کر کے اہل بیت کرام علیہم رضوان کی شان و عظمت کو گھٹانا وغیرہ اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں اور ایسے کرنے والے سارے کے سارے مفسدین فی الارض کہلائیں گے اور ان وعیدوں کے حقدار قرار پائیں گے جو قرآن و حدیث میں مفسدین کے حق میں وارد ہوئیں ۔

(2)فساد فی الاعمال: اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے اعمال میں فساد برپا کرنا مثلا کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اس کو نماز کے وقت کسی فضول اور برے کام میں مصروف کر دینا، کوئی روزے رکھتا ہے تو اسے کہہ دینا کہ روزے نہ رکھو کمزور ہو جاؤ گے، نیکی کی دعوت دینے والوں میں غیبت کی عادت ڈالنا ،چغلی کی عادت ڈالنا، کوئی درود شریف پڑھتا ہے تو اسے فضول باتوں میں لگا دینا یعنی ایسے کام کروانا جس سے کسی کے نیک اعمال میں ایسا فساد ہو جائے کہ اعمال سے توجہ ہٹ جائےاور نیک اعمال نہ کر پائے وغیرہ ایسے تمام فسادات پیدا کرنے والا شیطانی صفت کو اپنانے والا ہے اور خدا و ررسول کے حکم سے اعراض یعنی منہ پھیرنے والا ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ المائدۃ : آیت نمبر 33)

فساد فی الارض کے اسباب:زمین میں فساد کرنے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں سب سے بڑا سبب شیطان کا دھوکہ ہے وہ شیطان جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر168)

جس سے انسان اس کے دھوکے میں آ کر اعمال ،افعال ،عقائد اور اقوال میں فساد ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور مفسدین کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے اس طرح اگر شیطان کے وارسے انسان بچ بھی جائے تو انسان کے اندر موجود نفس امارہ موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ ترجمۂ کنز العرفان: ا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے ۔(سورۃیوسف آیت نمبر53)

اس نفس امارہ کی وجہ سے انسان فساد فی الارض کو اپناتا ہے اور وعیدوں کا حقدار قرار پاتا ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہوئے انبیاء و صلحا اور ملائکہ کی صفت یعنی اصلاح کو اپنائے نہ کہ فساد کو اپنائے اور جو بھی مفسد ہو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے امت کی اصلاح کرتے ہوئے زندگی گزار دے ۔خدا تعالی تمام انسانوں کو فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے اور اصلاح و نیکی کی دعوت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔