وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃابقرۃ:11،12)

لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔ (سورۃ البقرۃ:30)

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ:اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں کے واقعات پر ضمنی تبصرے سے پہلے ایک مرتبہ آیات کی روشنی میں واقعہ ذہن نشین کرلیں۔واقعے کا خلاصہ: اللہ تعالٰی نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق سے پہلے فرشتوں سے فرمایاکہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس پر فرشتوں نے عرض کی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو زمین میں اس کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم ہر وقت تیری تسبیح و تحمید کرتے ہیں (یعنی تیری خلافت کے مستحق ہم ہیں۔ )اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کے بعد انہیں تمام چیزوں کے نام سکھادیے اورپھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ تم ہی خلافت کے مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے یہ سن کر عرض کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا،ساری علم و حکمت تو تیرے پاس ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا: اے آدم!تم انہیں اِن تمام اشیاء کے نام بتادو ۔ جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا :اے فرشتو!کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں تمہاری ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃالاعراف:56)

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو امن، عدل اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بارہا زمین میں فساد پھیلانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معاشرتی بگاڑ کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی زندگی، معاشرے اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچائیں، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور بدامنی پھیلانا۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک متوازن اور پرامن نظام کے ساتھ پیدا فرمایا، اور انسان کو اس کا نگہبان بنایا۔ لیکن جب انسان اپنی خواہشات کے پیچھے چل کر اس توازن کو بگاڑتا ہے تو وہ فساد کا مرتکب ہوتا ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11)

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے برے اعمال کو اچھائی کا نام دے کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت معاشرے کے لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ فساد کو اصلاح کے پردے میں چھپاتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں فساد پھیلانے والوں کے انجام کے بارے میں بھی سخت وعید آئی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ القصص: 77)

یہ اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ فساد اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے اور ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات ہمیں امن، بھائی چارے اور انصاف کا درس دیتی ہیں۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف خود فساد سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ معاشرے میں امن قائم کرنے، حق و انصاف کو فروغ دینے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے سے ہی ہم ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ فساد فی الارض نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہمیں قرآنِ مجید کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں اور معاشروں کو فساد سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور دنیا میں امن و سکون قائم ہو۔


قرآن پاک میں جن امور سے روکا گیا ہے ان امور میں ایک معاملہ فساد فی الارض بھی ہے۔ فساد فی الارض معاشرے کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (رعد:25)

ایک اور جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان)

ایک اور جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ (محمد،22)

اسلامی جہاد رحمت ہے یا فساد؟اس سے معلوم ہوا کہ منافقین اسلامی جہاد کو زمین میں فساد اور خرابیوں کاسبب سمجھتے تھے اس لئے جہاد سے منہ موڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا جو رد فرمایا اس سے معلوم ہواکہ منافقوں کااسلامی جہاد کے بارے میں یہ نظریہ غلط و باطل تھا اوراس سے ان کا مقصد صرف جہاد میں جانے سے بچنا اور دوسروں کو جہاد میں شرکت سے روکنا تھا۔فی زمانہ بھی اسلام کے دشمن اسلامی جہاد پر اسی طرح کے اعتراض کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے اسلام کی محبت اور اس سے قلبی تعلق ختم کر کے اس کے خلاف نفرت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف واقعات کو بنیاد بنا کر لوگوں کے سامنے دینِ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں انسانیت پر بے انتہا ظلم و ستم کی تعلیم دی گئی ہے،اسی طرح اسلام دشمنوں کے افکار و نظریات اور ان کی تعلیمات سے مرعوب کچھ نام نہاد مسلمان بھی اسلامی جہادسے متعلق ایسا کلام کرتے ہیں جو اس کی حقیقت اوراس کے اصل مقاصد کے بالکل بر خلاف ہوتا ہے، حالانکہ ان میں بہت سے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے حتّٰی کہ تاریخ سے ادنیٰ سی واقِفِیَّت رکھنے والا شخص بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ دینِ اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے انسانوں کا حال کیا تھا اور وہ ظلم و ستم کی کس چَکِّی میں پِس رہے تھے اور لوگ کس طرح غلامی کی زنجیروں میں قید اور اپنے آقاؤں کے ظلم و ستم کا شکار تھے ،بچے، جوان،بوڑھے،مرداور عورت الغرض ہر سطح کے انسان جس ظلم و زیادتی اور بے رحمی کا شکار تھے وہ تاریخ کے واقِف کار سے ڈَھکی چُھپی نہیں اور ا س کے مقابلے میں دینِ اسلام کے تاریخی کارناموں پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ دینِ اسلام نے ہی انسانیت کو ظلم و ستم کے گہرے اندھیرے سے نکالا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں کو سر اُٹھا کر جینا سکھایا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں میں انسانیت کی قدر اور عظمت پیدا کی ،دینِ اسلام نے ہی زمین میں فساد کوختم کر کے پُر سکون معاشرہ اور امن کی فضا قائم کی ،انسانوں کو ان کے حقوق دلائے اور ان کے حقوق پر دست اندازی کرنے والوں کو شکنجے میں جکڑا اور بڑے فسادیوں کے فساد سے دوسروں کو بچانے کے لئے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کے ذریعے ہونے والے فساد سے دوسرے انسانوں کی حفاظت ہو اور یہ دوسروں کے لئے عبرت کا مقام بنیں اور وہ فساد برپا کرنے سے باز رہیں ،اسی تناظُر میں اسلامی جہا د کو انصاف کی نظر سے دیکھا جائے اور ا س کے بنیادی مقاصد پر سچے دل سے غور کیا جائے تو ہر عقلِ سلیم رکھنے والے شخص پر واضح ہو جائے گاکہ اسلامی جہاد سراپا رحمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے فساد کا خاتمہ ہو تا اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان)


قرآن پاک وہ جامع کتاب ہے جس میں اگلو اور پچھلوں سب کی ہدایت کا سامان ہیں قرآن کریم میں فساد سے بچنے کے کئی پہلو موجود ہیں معاشرے میں روز نت نئے فساد رونما ہوتے ہیں ان میں سے ایک زمین میں فساد کرنا بھی ہے اور ساتھ ہی اسکو اصلاح کا نام دے دیتے ہیں ، قرآنِ پاک میں اسکی مذمت اس طرح کی:

(1) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ، آیت 12،11)

بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔بعض لوگ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ صرف دنیا میں فساد قتل و غارت اور چوری ڈکیتی سے ہی ہو سکتا ہے بلکہ ایسا نہیں ہے ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں اسکی مثال قرآن پاک میں اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے کردار سے دی۔

(2)وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃالبقرۃ، آیت 205،204)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 204، 1 / 144،145)

اسی طرح یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا بعض لوگ اشیاء کو کم تول کر بھی زمین پر فساد پھیلاتے ہیں اور ان کی مذمت کے لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

(3)وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے میری قوم !انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوراکرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔ (سورۃھود آیت 85)

مذکورہ آیات سے یہ معلوم ہو گیا کہ بعض لوگ فساد کو اصلاح کا نام دے کر یا میٹھی باتیں کر کے یا ناپ تول میں کمی کر کے فساد پھیلاتے ہیں لیکن بعض لوگ تو ایسے جری ہوتے ہیں کہ وہ صراحتا فساد کرتے ہیں اُن میں نہ خوف خدا نہ شرم نبی ہے بے جھجک ظلم و ستم کر کے زمین میں فساد کرتے ہیں اس کی مذمت قرآن پاک میں اس طرح ہوئی:

(4)اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ الشوریٰ، آیت 42)

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ یعنی گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جو ابتداء ً لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور تکبُّر اور گناہوں کا اِرتکاب کرکے اور فساد برپا کر کے زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: 42، ص1091، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: 42، 4 / 99، ملتقطاً)

جس طرح قرآنِ پاک میں فساد فی الارض کی مذمت آئی ہے اسی طرح اس فساد سے بچنے والوں کے لیے آخرت کے گھر کی خوشخبری عطا کی اور ساتھ ہی ان کو پرہیزگاروں کا نام عطا کیا اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ قصص، آیت 83)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر۔ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : 83 ، 6 / 438 ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: 83، 7 / 240، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

فساد فی الارض کا معاملہ صرف یہیں پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس کی اور بھی بہت سی صورتیں دنیا میں موجود ہیں

اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اس قبیح گناہ یعنی فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے آمین۔


اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃالمائدۃ:33)

اسلامی سزاؤں کی حکمت:اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔

ایک مقام پر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌؕ-غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْاۘ-بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِۙ-یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُؕ-وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاؕ-وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِؕ-كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُۙ-وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اِنہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں عطا فرماتا ہے جیسے چاہےاور اے محبوب یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کوشرارت اور کفر میں ترقی ہوگی اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بَیر(بغض)ڈال دیا جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُسے بجھا دیتا ہے اور زمین میں فساد کےلیے دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃالمائدۃ:64)

كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ: جب کبھی یہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔جب بھی یہودیوں نے فساد ،شر انگیزی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی ایسے شخص کو ان پر مُسَلَّط کر دیا جس نے انہیں ہلاکت اور بربادی سے دوچار کردیا، پہلے جب انہوں نے فتنہ و فساد شروع کیا اور تورات کے احکام کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان کی طرف بھیج دیا جس نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا، کچھ عرصے بعد پھر جب انہوں نے سر اٹھایا تو طیطوس رومی نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب انہوں شر انگیزی شروع کی تو فارسی مجوسیوں نے ان کا حشر نشر کردیا، پھر کچھ عرصے بعد جب فساد کا بازار گرم کیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر تَسلُّط اور غلبہ عطا فرمادیا۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱ / ۵۱۰۵۱۱)


حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ہماری ہر طرح سے ہر معاملہ میں رہنمائی فرمائی چاہے وہ عقائد سے ہوں یا عبادات سے ہوں اسی طرح وہ چیزیں کہ جن کی وجہ سے بندہ اللہ و رسول و بندگان خدا سے دور ہو جاتا ہے ۔ انہیں اسباب میں سے ایک سبب فساد فی الارض ہے کہ جس کے سبب کئی نسلیں تباہ ہوئی، رشتوں میں رکاوٹ و آپس میں اختلافات پیدا ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کی مذمت بیان کی گئی اور اس کے سبب انسان گناہگار بھی ہوتا ہے اور جنت جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11،12)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں شیخ الحدیث و التفسیر مفتی قاسم صاحب فرماتے لکھتے ہیں:

جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے:وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:204،205)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔ (صراطالجنان )

ایک اور مقام پر ارشاد ہے :تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ القصص ،آیت نمبر 83)

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ اشخاص ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں ہمارے معاشرے میں بھی ایسے اشخاص کی کمی نہیں جو پھیلاتے تو فساد ہیں اور علماء کی رہنمائی کرنے کے باوجودوہ اسے نام اصلاح و ہدایت کا دیتے ہیں ۔

فساد کئی طرح کا ہوتا ہیں:توحید کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی گستاخی کرنا، تفریح کے نام پر بسنت میلہ کا انعقاد کرنا جو ناجائز و حرام،جشن کے نام پر حرام کام سرانجام دینا اور یاد رہے کہ یہاں آیت میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں اللہ کریم ہمیں فسادسے محفوظ رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔


قرآن کریم رب کائنات کی طرف سے نازل ہونے والا ایسا دستور حیات ہے جو انسانیت کے لیے زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرنے والا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی رضا میں اپنی زندگی کو گزارے اور ہر اس فعل سے بچے کہ جو اللہ تبارک و تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے بندہ مومن کو جن امور سے منع فرمایا ہے ان میں سے ایک فعل فساد فی الارض یعنی زمین میں فتنہ و فساد پھیلانا بھی ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اس فعل کی مذمت آئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)ترجمۂ کنز العرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر11،12)

ان دو آیات میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں اس طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

اللہ کریم اس آفت سے ہماری حفاظت فرمائے۔(صراط الجنان)

زمین میں فساد کرنے کی سزا:ایک مقام پر زمین میں فساد کرنے والوں کے لیے سزا بیان فرمائی ارشاد باری تعالٰی ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ المائدۃ آیت نمبر 33)

اللہ کریم ہمیں اس بری آفت سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین۔


قرآن کریم اللہ تبارک و تعالی کی وہ مقدس کتاب ہے کہ جسے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا اس کتاب میں ابتداء دنیا سے لے کر انتہاء دنیا تک کے سارے مسائل کو ذکر کیا گیا ہے خاص طور پر انسانی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی موجود ہے ۔ایک مسلمان پر لازم ہے اور اس کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی رضا والے کام کرے اور ان کاموں سے بچتا رہے کہ جنہیں اللہ تبارک و تعالی اور اس کے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ منع فرمانے والے کاموں میں سے ایک کام فساد فی الارض بھی ہے جس کی اللہ تبارک و تعالی نے مذمت فرمائی ہے۔اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11،12)

یہ آیت اللہ تبارک و تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں نازل فرمائی کہ جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور جب مومنین انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ اتراتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو فساد نہیں پھیلاتے بلکہ ہم تو لوگوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔( تفسیر صراط الجنان)

اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے :وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:204،205)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۱ / ۱۴۴،۱۴۵)

یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں :

(1)ظاہری طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا، (2)اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا، (3)جھگڑالو ہونا، (4)فساد پھیلانا، (5)لوگوں کے اموال برباد کرنا، (6)نصیحت کی بات سن کر قبول کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔( تفسیر صراط الجنان)

اسلام امن اور بھلائی والا دین ہے اور یہ عدل اور انصاف کی تلقین کرتا ہے دنیا کے اندر فساد پھیلانا اللہ تبارک و تعالی کی نافرمانی اور جرم ہے ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی فرمانبرداری کریں اور زمین میں فساد نہ پھیلائے ۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے اور دوسروں سے بھی محبت کا تعلق قائم رکھیں اور جھگڑا اور فساد نہ کریں۔


فساد یہ ایک بہت بڑی چیز ہے آج ہمارے معاشرے میں کئی طرح کے فسادات پائے جاتے ہیں ہمارے مسلمان بھائی بھی کئی طرح کےفساد میں مبتلا ہیں ہم فساد کی مذمت کو قرآنی آیات سے سنیں گے جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کی مذمت بیان فرمائی: چنانچہ

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 11،12)

تفسیر صراط الجنان : اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز الایمان :اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص،آیت 77)

اور فرماتا ہے :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃالاعراف:آیت56)

تفسیر صراط الجنان:یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

اور فرمایا:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:آیت205)

تفسیر صراط الجنان: یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔قرآنِ مجید میں فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) ایک بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مختلف پہلو اور قسمیں بیان کی گئی ہیں، جو انسانی زندگی، معاشرے اور دین سب کو متاثر کرتی ہیں۔ ہم نے قرآنی آیات سے فساد کی مذمت کو پڑھ لیا اب آئے ان کی اقسام بھی سن لیجئے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ یہ بھی فساد کی اقسام میں سے ہیں ان سے بھی بچنا چاہیے ۔

(1) عقیدے کا فساد (دینی بگاڑ):اللہ کے ساتھ شرک کرنا،دینِ حق کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا،لوگوں کو دین سے دور کرنا مثلا کفر، شرک، نفاق۔

(2) اخلاقی فساد:جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا،بدکاری، فحاشی پھیلانا،بے حیائی کو عام کرنا، یہ معاشرے کی اخلاقی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔

(3) معاشی فساد:ناپ تول میں کمی کرنا،سود لینا دینا،رشوت اور حرام کمائی، مثال: حضرت شعیب کی قوم کو ناپ تول میں کمی پر عذاب آیا ۔

(4) سماجی فساد:ظلم و زیادتی کرناناانصافی اور حقوق غصب کرنا،لڑائی جھگڑے اور فساد پھیلانا، یہ معاشرتی امن کو تباہ کر دیتا ہے۔

(5)سیاسی فساد:حکمرانوں کا ظلم کرنا،قانون کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا،عوام کے حقوق دبانا۔

(6) امن و امان میں فساد (قتل و غارت):قتل کرنا،دہشت پھیلانا،زمین میں خون خرابہ کرنا، قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے سخت سزائیں بیان ہوئی ہیں۔

(7) ماحولیاتی فساد:زمین، پانی اور ہوا کو آلودہ کرنا،قدرتی نظام کو نقصان پہنچانا، اللہ نے زمین کو توازن کے ساتھ پیدا کیا، اس میں بگاڑ ڈالنا بھی فساد ہے۔

ہم نے قرآنی آیات سے فساد کی مذمت پڑھ لی اور اس کی اقسام بھی سنی اب ان سے بچنے کی کوشش کرنا ہمارے لیے ضروری ہے ورنہ ہم بھی فساد فی الارض کی طرف جانے سے محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے محفوظ رکھے۔


قرآنِ مجید فرقانِ حمید زندگی کے ہر پہلو میں ہماری اصلاح کرتا ہے اور قدم بہ قدم ہمارے لیے مشعلِ راہ کی مانند ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے زندگی گزارنے کے اصول بیان فرمائے ہیں، ایسے اصول جن پر نجات کا دارومدار ہے، اور ایسے قواعد کہ جن پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اوامر و نواہی بیان فرمائے ہیں۔ جن چیزوں سے اللہ ربّ العزت نے منع فرمایا، ان میں سے ایک "فساد فی الارض" یعنی زمین میں فساد پھیلانا ہے۔ فساد فی الارض ایک مذموم فعل ہے جو معاشرے میں بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ یہ انسانی حقوق کو سلب کرتا ہے اور ملک و قوم کو ترقی سے زوال کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ ربّ العزت قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)

تفسیر صراط الجنان: یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد فی الارض کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، جیسے زنا، چوری، ڈاکہ ڈالنا، زکوٰۃ ادا نہ کرنا، قطع تعلقی وغیرہ یہ سب اعمال معاشرے میں بدامنی اور ترقی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔کیونکہ معاشرے کی ترقی اور امن اسی وقت ممکن ہے جب اللہ ربّ العزت کے احکامات پر عمل کیا جائے اور اس کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔ جبکہ زمین میں فساد پھیلانے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص:77)

تو جس بندے کو ربّ تعالیٰ پسند نہ فرمائے، وہ کس طرح دنیا و آخرت میں نجات پا سکتا ہے؟یقیناً نجات ربّ ذوالجلال کی اطاعت ہی میں ہے۔ آج سے یہ عزم کر لیں کہ ہم معاشرے کی اصلاح کے لیے دن رات کوشاں رہیں گے، نہ خود کسی برائی میں مبتلا ہو کر بدامنی کا سبب بنیں گے اور نہ کسی اور کو بننے دیں گے۔

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


دین اسلام کامل ہے اور اس کے کامل ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ بندے کو کیا کام کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اسلام ہر لمحے اس بات کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ چیزیں جن سے اسلام نے منع کیا ہے، ان میں سے ایک فساد فی الارض ہے، یعنی زمین میں فساد کرنا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی مذمت اور ممانعت آئی ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً کفر کرنا، اسلام کے وہ نظریات جو مسلم ہیں اور ان کا تعلق ضروریات مذہب اہل سنت سے ہے، ان کا انکار اور اس کی ترویج و اشاعت، ڈاکہ زنی، شراب نوشی، فحاشی عریانی اور اس کی ترویج کے لیے نت نئے حیلے بہانے اور ایسی ویبسائٹ کا قیام، اور دیگر فسق و فجور کے اعمال و افعال۔

اللہ عزوجل قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ القصص، آیت نمبر 83)

ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے، اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کا اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔(روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: 83، 6/438، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: 83، 7/240، الجزء الثالث عشر)

مزید اس کے بعد مفتی اہل سنت مفتی قاسم صاحب (اطال اللہ عمرہ) فرماتے ہیں:اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے۔اللہ ہمیں فساد فی الارض جیسے ممنوع و مذموم فعل کے ارتکاب سے محفوظ فرمائے اور ایسے وقت میں کہ جب فساد فی الارض عام ہے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دینی احکام پر عمل پیرا رہے اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رہے۔

حضور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ أُمّتِیْ فَلَہُ أَجْرُ مائَۃِ شَھِیْدٍترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، حدیث نمبر 176)


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر بھیجا اپنا نائب مقرر فرمایا اور اسے حکم دیا کہ وہ زمین میں امن و سکون سلامتی قائم کرے، عدل و انصاف کو اپنائے اور ہر قسم کے فساد سے بچے لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑتا ہے تو وہ زمین میں فساد پھیلانے لگتا ہے، جس کی قرآنِ مجید میں سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔فساد فی الارض سے مراد ہر وہ عمل ہے جو زمین میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ بازی اور گناہوں کو عام کرنا ہے اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگ ہرگز پسند نہیں۔

چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:

(1) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(پارہ 8، سورۃ الاعراف، آیت 56)

اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر انسان کو بتایا گیا ہے کہ وہ زمین میں ہر گز فساد پیدا نہ کرے بلکہ اس کی اصلاح میں حصہ لے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

(2) وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 64)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ فساد کرنے والے اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑی محرومی ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(3) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ

ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں۔(پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 41)

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جو فساد پھیل رہا ہے وہ دراصل انسان کے اپنے کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ ہے۔

آج کے دور میں فساد کی کئی صورتیں ہمارے سامنے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، رشوت لینا، دوسروں کے حقوق غصب کرنا، ظلم کرنا اور معاشرے میں بدامنی پھیلانا، برے اعمال کرنا وغیرہ یہ سب اعمال اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بنتے ہیں۔قرآنِ کریم ہمیں بار بار اصلاح کا درس دیتا ہے۔ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو درست کریں، سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کر لے تو پورا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اور ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فساد فی الارض ایک بہت بڑا جرم اور بڑا گناہ ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے اور نیکی، بھلائی اور اصلاح کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دینا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور زمین میں امن و سلامتی پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔