قرآنِ مجید فرقانِ حمید زندگی کے ہر پہلو میں ہماری اصلاح کرتا ہے اور قدم بہ قدم ہمارے لیے مشعلِ راہ کی مانند ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے زندگی گزارنے کے اصول بیان فرمائے ہیں، ایسے اصول جن پر نجات کا دارومدار ہے، اور ایسے قواعد کہ جن پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اوامر و نواہی بیان فرمائے ہیں۔ جن چیزوں سے اللہ ربّ العزت نے منع فرمایا، ان میں سے ایک "فساد فی الارض" یعنی زمین میں فساد پھیلانا ہے۔ فساد فی الارض ایک مذموم فعل ہے جو معاشرے میں بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ یہ انسانی حقوق کو سلب کرتا ہے اور ملک و قوم کو ترقی سے زوال کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ ربّ العزت قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)

تفسیر صراط الجنان: یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد فی الارض کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، جیسے زنا، چوری، ڈاکہ ڈالنا، زکوٰۃ ادا نہ کرنا، قطع تعلقی وغیرہ یہ سب اعمال معاشرے میں بدامنی اور ترقی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔کیونکہ معاشرے کی ترقی اور امن اسی وقت ممکن ہے جب اللہ ربّ العزت کے احکامات پر عمل کیا جائے اور اس کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔ جبکہ زمین میں فساد پھیلانے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص:77)

تو جس بندے کو ربّ تعالیٰ پسند نہ فرمائے، وہ کس طرح دنیا و آخرت میں نجات پا سکتا ہے؟یقیناً نجات ربّ ذوالجلال کی اطاعت ہی میں ہے۔ آج سے یہ عزم کر لیں کہ ہم معاشرے کی اصلاح کے لیے دن رات کوشاں رہیں گے، نہ خود کسی برائی میں مبتلا ہو کر بدامنی کا سبب بنیں گے اور نہ کسی اور کو بننے دیں گے۔

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔