عبد
الحمید عطاری( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی،پاکستان)
فساد یہ ایک
بہت بڑی چیز ہے آج ہمارے معاشرے میں کئی طرح کے فسادات پائے جاتے ہیں ہمارے مسلمان
بھائی بھی کئی طرح کےفساد میں مبتلا ہیں ہم فساد کی مذمت کو قرآنی آیات سے سنیں گے
جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کی مذمت بیان فرمائی:
چنانچہ
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا
اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو اُن سے
کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔سنتا ہے وہی
فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 11،12)
تفسیر صراط الجنان : اس آیت اور اس کے بعد والی
آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ
باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو
تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے
۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد
پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی
جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام
فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے
معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین
کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر
حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر
اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام
لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز الایمان :اور
زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص،آیت 77)
اور
فرماتا ہے :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃالاعراف:آیت56)
تفسیر صراط الجنان:یعنی اے لوگو!
انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے،
احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم
کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
اور فرمایا:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ
الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد
ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:آیت205)
تفسیر صراط الجنان: یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ
ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی
سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں
میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔قرآنِ
مجید میں فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) ایک بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔
اس کے مختلف پہلو اور قسمیں بیان کی گئی ہیں، جو انسانی زندگی، معاشرے اور دین سب
کو متاثر کرتی ہیں۔ ہم نے قرآنی آیات سے فساد کی مذمت کو پڑھ لیا اب آئے ان کی
اقسام بھی سن لیجئے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ یہ بھی فساد کی اقسام میں سے ہیں ان سے
بھی بچنا چاہیے ۔
(1) عقیدے کا فساد (دینی بگاڑ):اللہ کے
ساتھ شرک کرنا،دینِ حق کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا،لوگوں کو دین سے دور کرنا مثلا
کفر، شرک، نفاق۔
(2) اخلاقی فساد:جھوٹ
بولنا، دھوکہ دینا،بدکاری، فحاشی پھیلانا،بے حیائی کو عام کرنا، یہ معاشرے کی
اخلاقی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔
(3) معاشی فساد:ناپ تول میں
کمی کرنا،سود لینا دینا،رشوت اور حرام کمائی، مثال: حضرت شعیب کی قوم کو ناپ تول میں
کمی پر عذاب آیا ۔
(4) سماجی فساد:ظلم و زیادتی
کرناناانصافی اور حقوق غصب کرنا،لڑائی جھگڑے اور فساد پھیلانا، یہ معاشرتی امن کو
تباہ کر دیتا ہے۔
(5)سیاسی فساد:حکمرانوں
کا ظلم کرنا،قانون کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا،عوام کے حقوق دبانا۔
(6) امن و امان میں فساد (قتل و
غارت):قتل کرنا،دہشت پھیلانا،زمین میں خون خرابہ کرنا، قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے
سخت سزائیں بیان ہوئی ہیں۔
(7) ماحولیاتی فساد:زمین، پانی
اور ہوا کو آلودہ کرنا،قدرتی نظام کو نقصان پہنچانا، اللہ نے زمین کو توازن کے
ساتھ پیدا کیا، اس میں بگاڑ ڈالنا بھی فساد ہے۔
ہم نے
قرآنی آیات سے فساد کی مذمت پڑھ لی اور اس کی اقسام بھی سنی اب ان سے بچنے کی کوشش
کرنا ہمارے لیے ضروری ہے ورنہ ہم بھی فساد فی الارض کی طرف جانے سے محفوظ نہیں رہ
سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے محفوظ رکھے۔
Dawateislami