حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ہماری ہر طرح سے ہر معاملہ میں رہنمائی فرمائی چاہے وہ عقائد سے ہوں یا عبادات سے ہوں اسی طرح وہ چیزیں کہ جن کی وجہ سے بندہ اللہ و رسول و بندگان خدا سے دور ہو جاتا ہے ۔ انہیں اسباب میں سے ایک سبب فساد فی الارض ہے کہ جس کے سبب کئی نسلیں تباہ ہوئی، رشتوں میں رکاوٹ و آپس میں اختلافات پیدا ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کی مذمت بیان کی گئی اور اس کے سبب انسان گناہگار بھی ہوتا ہے اور جنت جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11،12)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں شیخ الحدیث و التفسیر مفتی قاسم صاحب فرماتے لکھتے ہیں:

جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے:وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:204،205)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔ (صراطالجنان )

ایک اور مقام پر ارشاد ہے :تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ القصص ،آیت نمبر 83)

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ اشخاص ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں ہمارے معاشرے میں بھی ایسے اشخاص کی کمی نہیں جو پھیلاتے تو فساد ہیں اور علماء کی رہنمائی کرنے کے باوجودوہ اسے نام اصلاح و ہدایت کا دیتے ہیں ۔

فساد کئی طرح کا ہوتا ہیں:توحید کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی گستاخی کرنا، تفریح کے نام پر بسنت میلہ کا انعقاد کرنا جو ناجائز و حرام،جشن کے نام پر حرام کام سرانجام دینا اور یاد رہے کہ یہاں آیت میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں اللہ کریم ہمیں فسادسے محفوظ رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔